آٹومیکانیکا کا آغاز ، 13 پاکستانی ایکسپورٹرز کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) آٹومیکانیکا استنبول 2025 کا آغاز جمعرات، 12 جون کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع ٹی یو یے پی فیئر اینڈ کانگریس سینٹر میں ہوگیا۔ یہ بین الاقوامی آٹوموٹیو نمائش 15 جون 2025 تک جاری رہے گی، جو دنیا بھر کے آٹو پارٹس مینوفیکچررز اور خریداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہی ہے۔نمائش کے 18ویں ایڈیشن میں 47 ممالک سے 1,481 سے زائد بین الاقوامی نمائش کنندگان اور 25,000 سے زیادہ وزیٹرز کی شرکت متوقع ہے۔ اس عالمی ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی 13 کمپنیوں نے بھی اپنی جگہ بنائی ہے، جن میں سے 12 کو ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی معاونت حاصل ہے، جبکہ اوسا کا بیٹریز نے آزادانہ طور پر شرکت کی ہے۔پاکستانی کمپنیوں کے لیے ایک خصوصی ’’پاکستان پویلین‘‘ قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کی آٹوموٹیو انڈسٹری کی بڑھتی ہوئی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرنا ہے۔ شرکت کرنے والی کمپنیوں میں ایڈم جی انجینئرنگ، میچ لیس انجینئرنگ، احمد ٹریڈرز، ایم جی اے انڈسٹریز، میٹلائن انڈسٹریز، رستگار انجینئرنگ، راوی آٹوز شیخوپورہ، تھرموسول، سلور فالکن انجینئرنگ، رائل ٹیک، ایس این اے انڈسٹریز، اور دی جنرل ٹائرز شامل ہیں۔ترکی میں پاکستان کے قونصل جنرل نعمان اسلم نے بھی نمائش کا دورہ کیا اور پاکستانی نمائندگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 15 سالوں سے اس نمائش میں باقاعدگی سے شرکت کر رہا ہے اور وبا کے بعد پاکستانی کمپنیوں میں ایک نیا جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی کی اسٹریٹجک لوکیشن اور لاجسٹک سہولیات پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک