صوبہ سندھ کے بجٹ سال 2025-26 میں عوام کے لیے خاص کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
وزیراعلی سندھ کے مطابق اس سال سالانہ ترقیاتی پروگرام 520 ارب روپے تک محدود کردیا گیا، تعلیم کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں 99.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،غریب اور ہونہار طلبہ کی معاونت کے لیے انڈونمنٹ فنڈ میں 2 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ بجٹ: کھانے پینے کی اشیا کی جانچ پڑتال کے لیے لیبارٹریز کے قیام کا اعلان
صحت کےلیے45.
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں صحت کا بجٹ کہاں کہاں لگے گا؟
نئے بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے منصوبے شامل شامل کیے گئے ہیں، ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، نئے صوبائی بجٹ میں زرعی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی جائے گی، 2 لاکھ سے زائد کسانوں کو سبسڈی اور جدید زرعی مشینری کی فراہمی کییےہاری کارڈ کا اجراہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ بجٹ: امن و امان کی بہتری کے لیے 160 ارب روپے مختص
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ میں گرین انرجی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کا نفاذ کیا جائے گا، غذائی امداد، کمیونٹی انفراسٹرکچر اور کم لاگت رہائشی منصوبوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان تعلیم سندھ بجٹ صحت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تعلیم ارب روپے مختص کے لیے
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔