پانی جیسے حساس وسائل کا بطور ہتھیار استعمال کرنا خطرناک رججان ہے؛ بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
سٹی 42 : پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان ماحولیاتی بحران کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے ، پانی جیسے حساس وسائل کا بطور ہتھیار استعمال کرنا خطرناک رججان ہے، بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان کا رد عمل یقینی ہوگا ، عالمی برادری سے مطالبہ ہے خطے میں جنگ فوری روکی جائے۔
ان خیالات کا اظہار سربراہ پارلیمانی وفد بلاول بھٹو نے یورپی تھنک ٹینک کو دی جانے والی بریفنگ میں کیا، کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر خود مختار آزادانہ تحقیقات کروانے کی پیش کش کی ، بھارت نے پاکستانی پیش کش کے جواب میں بلا اشتعال جارحیت کی، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر معطل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی وزارت خارجہ حکام سے ملاقات میں خطے میں امن پر زور دیا، ایران پر اسرائیل کے حملے کی شدید مذمت کی ۔
فنڈز کی کمی: نگران دورِ حکومت میں تعمیر کیے گئے تھانے فعال نہ ہو سکے
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے جارحانہ اقدامات کے بجائے تحمل سے کام لیا، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا غیرقانونی ہے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کا امن خراب کرنے کے مترادف ہے، سندھ طاس جیسے معاہدے کمزور ہوئے تو علاقائی امن کو خطرہ ہوگا، ماحولیاتی وسائل کو ہتھیار بنانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پانی روکا تو پاکستان جوابی عملی اقدامات پر مجبور ہوگا، بھارتی اقدامات کے جواب میں پاکستان کا رد عمل یقینی ہوگا۔
معروف گلوکار علی حیدر کی بیٹی والد کے نقش قدم چل پڑی
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے مسائل کا حل جامع مذاکرات سے ہی ممکن ہے، مسلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل ہے ، بھارت ڈھٹائی سے مقبوضہ کشمیر کو اندرونی مسلہ قراردیتا چلا آرہا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں ثبوت ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسلہ نہیں ہے، مسلہ کشمیر سے نظریں چرانے کی وجہ سے دہشت گردی کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسلہ بنیادی ہے اسے حل کئے بغیر معاملات ٹھیک نہیں ہوسکتے ۔
پنجاب غیرمطلوبہ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 2025 کثرت رائےسے منظور
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی اسپانسر کررہا ہے، ٹھوس شواہد ہیں بھارتی پراکسیز بلوچستان میں دہشت گردی کررہی ہیں، دنیا کے کسی بھی ملک مقابلے میں روان سال پاکستان میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے حملے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے بھی دو روز پہلے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں سے دہشت گرد دوسرے ملکوں میں حملے نہیں کرسکے۔
اسرائیلی حملے میں نقصانات پر ایرانی عوام سے اظہارِ ہمدردی کرتا ہوں: وزیراعظم شہباز شریف
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے کہ پاکستان
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔