شمالی کوریا نے تباہ شدہ جنگی جہاز مرمت کرکے سمندر میں اتار دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ تباہ شدہ جنگی بحری جہاز کو مرمت کے بعد دوبارہ کامیابی سے لانچ کردیا گیا۔ شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنا تباہ شدہ دوسرا تباہ کن جنگی جہاز مکمل طور پر مرمت کر کے کامیابی سے سمندر میں اتاردیا ہے۔ یہ دعویٰ کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے کیا ہے جس کے مطابق لانچنگ کے موقع پر رہنما کم جونگ اْن بھی موجود تھے۔ کے سی این اے کے مطابق یہ رواں برس تیار کیا گیا دوسرا تباہ کن جہاز ہے جو ملک کے مشرقی ساحل سے لانچ کیا گیا۔ اس موقع پر کم جونگ اْن نے کہا کہ شمالی کوریا کے دونوں جدید جنگی جہاز بحریہ کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم دشمنوں کے خطرات کا جواب زبردست عسکری طاقت سے دیں گے، ہماری بحریہ کو طویل فاصلے تک کارروائی کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسی جہاز کی ناکام لانچنگ کے بعد کم جونگ اْن نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور اسے مجرمانہ غفلت قرار دیا تھا۔ اس ناکامی کے بعد شمالی کوریا نے ورکرز پارٹی کے اسلحہ سازی ڈپارٹمنٹ کے نائب ڈائریکٹر سمیت 4 اعلیٰ حکام کو حراست میں لیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا نے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔