اسرائیل نے معاشی اور توانائی انفرا اسٹرکچر پر حملہ کیا تو فوری ردعمل دیں گے: ایران
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسرائیل نے معاشی اور توانائی انفرا اسٹرکچر پر حملہ کیا تو فوری ردعمل دیں گے: ایران WhatsAppFacebookTwitter 0 14 June, 2025 سب نیوز
تہران(آئی پی ایس ) ایران نے عالمی برادری کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے معاشی اور توانائی انفرا اسٹرکچر پر حملہ کیا تو فوری ردعمل دیں گے۔ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اسرائیلی حملے کا شکار ایران سے تحمل کا مطالبہ غیر منصفانہ ہے، اسرائیل نے معاشی اور توانائی انفرا اسٹرکچر پر حملہ کیا تو فوری ردعمل دیں گے۔ادھر اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے ایران پر حملوں کو اسرائیل کی جانب سے ریاستی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں کے لیے امریکا نے اسرائیل کو انٹیلی جنس فراہم کی، امریکا ان جرائم میں معاونت اور اس کی اجازت دے کر نتائج کا مکمل ذمہ دار ہے۔دوسری جانب اسرائیلی مندوب نے کہا کہ انٹیلی جنس تھی کہ چند دنوں میں ایران جوہری بموں کیلئے مواد تیار کر لے گا، ہم نے مسئلے کے حل کیلئے سفارتکاری کا انتظارکیا، ایران پر حملہ اپنے تحفظ کیلئے تن تنہا کیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنان فائلرز کی نقد رقم نکالنے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار کرنے کا فیصلہ نان فائلرز کی نقد رقم نکالنے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار کرنے کا فیصلہ اسرائیل نے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی، نتائج بھگتنا ہوں گے: چین، روس پاکستان خطے میں پائیدار امن کا خواہاں، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں: بلاول بھٹو سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ، امریکا کا اسرائیل کی حمایت کا اعتراف پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، جنگ مسائل کا حل نہیں، بلاول بھٹو تہران پر حملہ ایران کے اندر سے ہی کیا گیا، اسرائیلی اخبار کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔