روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ، اسرائیل کے ایران پر حملوں کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورت حال، ایران سے متعلق امور اور روس یوکرین تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی، دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو تقریباً 50 منٹ جاری رہی۔
یہ بھی پڑھیں: روس کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت
روسی صدارتی دفترکریملن کے حکام کے مطابق یہ رابطہ خوشگوار ماحول میں ہوا، بات چیت کو ’مفید اور بامقصد‘ قرار دیا گیا۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو کے دوران ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور انہیں خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور امریکی مذاکرات کار اس مقصد کے لیے ایرانی فریق سے بات چیت کی بحالی کے خواہاں ہیں۔ دونوں صدور نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ مستقبل میں بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران-اسرائیل تصادم: تنازعات کو طاقت نہیں سفارت سے حل کیا جائے، روس
اس موقع پر روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ روس یوکرین کے ساتھ مذاکرات 22 جون کے بعد دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے روس یوکرین تنازع کے جلد حل میں دلچسپی ظاہر کی۔
گفتگو کے اختتام پر صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو سالگرہ کی مبارکباد بھی دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل امریکا ایران ٹیلیفون ڈونلڈ ٹرمپ روس مذاکرات ولادی میر پیوٹن یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران ٹیلیفون ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات ولادی میر پیوٹن یوکرین ولادی میر پیوٹن ڈونلڈ ٹرمپ صدر ولادی بات چیت کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔