ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی میزبانی؛ آئی سی سی کا بھارت کو صاف انکار
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ فائنل کی میزبانی کی درخواست کو مسترد کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ 2027، 2029 اور 2031 فائنل کی میزبانی کی درخواست کی گئی تھی، جس کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ تینوں فائنلز انگلینڈ میں ہی منعقد ہوں گے۔
ٹیلی گراف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انگلش کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے پہلے ہی آئی سی سی کو اگلے تینوں فائنلز کی میزبانی کے منصوبے سے آگاہ کردیا ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے پہلے دو فائنلز کی میزبانی بھی انگلینڈ نے کی تھی، نیوزی لینڈ نے 2021 میں بھارت کیخلاف افتتاحی ٹائٹل جیتا تھا جبکہ آسٹریلیا نے 2023 میں اوول میں بھارت کو شکست دیکر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ 2025 کا فائنل آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان لارڈز کے تاریخی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جارہا ہے، جہاں افریقی ٹیم تیسرا ٹائٹل جیتنے کیلئے فیورٹ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ فائنل کی میزبانی انگلینڈ کے پاس ہے لیکن تینوں بار انگلش ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈ پر فائنل کیلئے کوالیفائی کرنے سے محروم رہی ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کی میزبانی فائنل کی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔