چین اور وسطی ایشیا کے تعاون سے دنیا میں مزید استحکام آئے گا،سروے
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
چین اور وسطی ایشیا کے تعاون سے دنیا میں مزید استحکام آئے گا،سروے WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ :دوسری چین وسطی ایشیا سمٹ کے موقع پر چائنا میڈیا گروپ سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے کیے گئے ایک سروے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ چین اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح تعاون “انسانیت کے ہم نصیب معاشرے ” کی حقیقی تصویر ہے، جو شورش زدہ بین الاقوامی صورت حال میں استحکام پیدا کر رہا ہے۔ سروے میں 90.
سمتوں میں سے ایک سمجھتا ہے، جس سے وسطی ایشیائی ممالک کو خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور ترقیاتی تبدیلی لانے کے مزید مواقع ملیں گے۔ سروے میں 92.3 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ چین اور پانچ وسطی ایشیائی ممالک نے معاشی اور تجارتی تعاون کے تنوع کو مضبوط کیا ہے جو بیرونی ماحول کی غیر یقینی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹ سکتا ہے۔ 92.4 فیصد نے اتفاق کیا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی تعاون کے نفاذ کے لئے ایک اہم بین الاقوامی پبلک پروڈکٹ بن گیا ہے۔
سروے میں 90 فیصد افراد کا خیال ہے کہ چین وسطی ایشیا کا میکانزم کسی کھیل اور مسابقت کا میکانزم نہیں ہے بلکہ دونوں فریقوں کے لئے استحکام اور ترقی کے حصول اور مستقبل کے لئے تعاون کا میکانزم ہے۔ 91.2 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان باہمی احترام، مساوات اور باہمی فائدے پر مبنی اعلیٰ سطحی تعاون “انسانیت کے ہم نصیب معاشرے ” کے تصور کا حقیقی مظہر ہے۔ یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا اور 24 گھنٹوں کے اندر مجموعی طور پر 2,059 غیر ملکی صارفین نے سروے میں حصہ لیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرانتہائی افسوسناک اور مشکل صبح ہے، ہم مل کر سوگ منائیں گے، اسرائیلی صدر ایف بی آر نے اسلام آباد میں بے نامی جائیدادیں ضبط کرلیں نان فائلرز کی نقد رقم نکالنے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار کرنے کا فیصلہ شی جن پھنگ کے پسندیدہ حوالہ جات ( انٹرنیشنل ورژن) وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے مین اسٹریم میڈیا پر نشر کیا جائے گا چین کے مالیاتی اشاریوں کی معقول شرح نمو برقرار چینی صدر کا چین وسطی ایشیا تعلقات کے فروغ میں طلباء کے کردار پر زور جب چینی مارکیٹ کی بات آتی ہے، تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ “انہیں اس بس میں سوار ہونا ہے”Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین اور وسطی ایشیا
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔