برطانیہ کا مزید جنگی طیارے مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
لندن:
برطانیہ کے وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ علاقائی سیکیورٹی میں تعاون کے لیے اپنے لڑاکا طیاروں سمیت جنگی سازو سامان مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گروپ آف سیون کے اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ لڑاکا طیاروں سمیت اضافی فوجی سازو سامان مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگی طیارے مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کا مقصد علاقائی سیکیورٹی میں تعاون کرنا ہے۔
اسٹارمر کا کہنا تھا کہ ہم لڑاکا طیاروں سمیت ہتھیار خطے میں منتقل کر رہے ہیں اور یہ خطے میں تعاون کے لیے کر رہے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا کہ عملے نے جمعے کی صبح ہی منتقلی کی تیاریاں شروع کردی تھیں جب یہ واضح ہوگیا تھا کہ خطے میں صورت حال بگڑ گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ برطانوی بیسز سے طیاروں کی مزید ری فیولنگ کی گئی ہے اور اضافی لڑاکا طیارے بھی بھیجے جائیں گے۔
برطانیہ کے جنگی طیارے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جو عراق اور شام کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک آپریشن کا حصہ ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کے مختلف مقامات پر جواب وار کیے ہیں جبکہ اسرائیلی حملے میں ایران کے فوجی کمانڈرز، سائنس دانوں سمیت کئی شہری شہید ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی