برطانیہ کا مزید جنگی طیارے مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
لندن:
برطانیہ کے وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ علاقائی سیکیورٹی میں تعاون کے لیے اپنے لڑاکا طیاروں سمیت جنگی سازو سامان مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گروپ آف سیون کے اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ لڑاکا طیاروں سمیت اضافی فوجی سازو سامان مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنگی طیارے مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کا مقصد علاقائی سیکیورٹی میں تعاون کرنا ہے۔
اسٹارمر کا کہنا تھا کہ ہم لڑاکا طیاروں سمیت ہتھیار خطے میں منتقل کر رہے ہیں اور یہ خطے میں تعاون کے لیے کر رہے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا کہ عملے نے جمعے کی صبح ہی منتقلی کی تیاریاں شروع کردی تھیں جب یہ واضح ہوگیا تھا کہ خطے میں صورت حال بگڑ گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ برطانوی بیسز سے طیاروں کی مزید ری فیولنگ کی گئی ہے اور اضافی لڑاکا طیارے بھی بھیجے جائیں گے۔
برطانیہ کے جنگی طیارے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جو عراق اور شام کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک آپریشن کا حصہ ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کے مختلف مقامات پر جواب وار کیے ہیں جبکہ اسرائیلی حملے میں ایران کے فوجی کمانڈرز، سائنس دانوں سمیت کئی شہری شہید ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔