Express News:
2026-06-03@06:50:17 GMT

برطانیہ کا مزید جنگی طیارے مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

لندن:

برطانیہ کے وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ علاقائی سیکیورٹی میں تعاون کے لیے اپنے لڑاکا طیاروں سمیت جنگی سازو سامان مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گروپ آف سیون کے اجلاس میں شرکت کے لیے کینیڈا روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ لڑاکا طیاروں سمیت اضافی فوجی سازو سامان مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگی طیارے مشرق وسطیٰ منتقل کرنے کا مقصد علاقائی سیکیورٹی میں تعاون کرنا ہے۔

اسٹارمر کا کہنا تھا کہ ہم لڑاکا طیاروں سمیت ہتھیار خطے میں منتقل کر رہے ہیں اور یہ خطے میں تعاون کے لیے کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے بتایا کہ عملے نے جمعے کی صبح ہی منتقلی کی تیاریاں شروع کردی تھیں جب یہ واضح ہوگیا تھا کہ خطے میں صورت حال بگڑ گئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ برطانوی بیسز سے طیاروں کی مزید ری فیولنگ کی گئی ہے اور اضافی لڑاکا طیارے بھی بھیجے جائیں گے۔

برطانیہ کے جنگی طیارے پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جو عراق اور شام کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک آپریشن کا حصہ ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کے مختلف مقامات پر جواب وار کیے ہیں جبکہ اسرائیلی حملے میں ایران کے فوجی کمانڈرز، سائنس دانوں سمیت کئی شہری شہید ہوچکے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان