data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کاکہنا  ہے کہ ایران کا مقصد اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کو ہمسایہ ممالک تک وسعت دینا نہیں ہے، اگر صورتحال نے مجبور کیا تو ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائیاں مکمل طور پر خوددفاع کے اصول کے تحت کی جا رہی ہیں اور اگر بیرونی جارحیت بند ہو جائے تو ایرانی ردعمل بھی رُک جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں واقع “ساوتھ پارس” گیس فیلڈ جسے ایران قطر کے ساتھ شیئر کرتا ہے،  پر اسرائیلی حملہ “کھلی جارحیت اور نہایت خطرناک اقدام” ہے، اس نوعیت کی کارروائی دراصل جنگ کو ایران کی سرزمین سے باہر پھیلانے کی کوشش ہے، جو ایک “اسٹریٹجک غلطی” ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل دانستہ طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، ان مذاکرات کے چھٹے دور کے لیے ایران نے ایک نیا مجوزہ معاہدہ تیار کیا تھا جو اتوار کے روز پیش کیا جانا تھا لیکن حالیہ اسرائیلی حملوں کے باعث اجلاس منسوخ کرنا پڑا۔

عباس عراقچی نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیل کی یہ کارروائی امریکی حمایت اور منظوری کے بغیر ممکن نہ تھی، ایران، امریکا کی جانب سے دیے گئے اس بیان کو قبول نہیں کرتا جس میں واشنگٹن نے اسرائیلی حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکا واقعی اپنی نیت صاف ظاہر کرنا چاہتا ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی کھلے عام مذمت کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم