تہران(نیوز ڈیسک)ایران کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت تہران میں اتوار کی رات سے میٹرو اسٹیشنز کو 24 گھنٹے کے لیے عوام کے لیے کھولا جائے گا تاکہ لوگ انہیں پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کر سکیں۔

’سی این این‘ کے مطابق یہ اعلان ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک حکومتی ترجمان نے کیا۔

ادھر تہران کی میونسپل کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ شہر میں بم شیلٹرز کی کمی کے باعث شہریوں کو سرنگوں اور تہہ خانوں کا سہارا لینا ہوگا۔

مہدی چمرن نے اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے، تہران اور ہمارے دیگر شہروں میں شیلٹرز موجود نہیں ہیں، ہمیں اب شیلٹرز بنانے پر کام کرنا ہوگا، ہم ان منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو ہمارے پاس پہلے موجود ہیں۔

چمرن نے کہا کہ اسرائیل میں جانی نقصان کم ہے کیونکہ وہاں بم شیلٹرز موجود ہیں اور حملوں کے خلاف باقاعدگی سے مشقیں کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں کوئی شیلٹرز نہیں تھے، لوگ تہہ خانوں میں چلے گئے، میٹرو اسٹیشنز کو انتہائی بحران کی صورت میں پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ہمیں میٹرو سسٹم بند کرنا پڑے گا۔

مہدی چمرن نے کہا کہ ہم زیرِ زمین پارکنگز کو بھی تیار کر سکتے ہیں، جیسے صدام کے حملوں کے دوران کیا گیا تھا۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ہفتے کو ایک ویڈیو خطاب میں خبردار کیا کہ اسرائیل آیت اللہ کی حکومت کی ہر جگہ اور ہر ہدف کو نشانہ بنائے گا۔

ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے دشمنی جاری رکھی تو وہ اپنے حملوں میں شدت لائے گا۔
مزیدپڑھیں:جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور دفاعی نظام بے اثر، ایران کے اسرائیل پر حملے برقرار

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ