امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان امن ممکن ہے اور جلد ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ‘ پر اپنے دور صدارت کی خارجہ پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں بھی کئی دیرینہ تنازعات کو ختم کروا چکے ہیں، اور مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر امن قائم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: روس ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، ولادی میر پیوٹن کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک گفتگو

انہوں نے کہا ’ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ معاہدہ ہو کر رہے گا، بالکل ویسے ہی جیسے میں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارتی دباؤ کے ذریعے بات چیت کی راہ ہموار کی، دونوں رہنماؤں نے فوری فیصلے کیے اور معاملات رک گئے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پہلے دور صدارت میں سربیا اور کوسووو کے درمیان کشیدہ حالات جنگ کے دہانے پر تھے، لیکن ان کی مداخلت سے امن قائم ہوا۔

 ٹرمپ کے مطابق مصر اور ایتھوپیا کے درمیان نیل دریا پر بننے والے بڑے ڈیم کے معاملے پر بھی انہوں نے مداخلت کی اور فی الحال خطے میں امن قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور اردوان کا رابطہ، ایران اسرائیل کشیدگی پر تشویش کا اظہار

انہوں نے کہا کہ اسی طرح اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی جلد امن ہوگا، اس وقت بھی اس حوالے سے کئی فون کالز اور ملاقاتیں جاری ہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے شکایت کی کہ انہیں ان کوششوں کا وہ کریڈٹ نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ’عوام سب کچھ سمجھتے ہیں۔‘۔امریکی صدر نے آخر میں لکھا کہ ’مشرق وسطی کو دوبارہ عظیم بنائیں گے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسرائیل امریکا امن معاہدہ ایران بھارت پاکستان جنگ ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا امن معاہدہ ایران بھارت پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انہوں نے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی