UrduPoint:
2026-06-03@08:08:28 GMT

ایران کا اسرائیلی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر میزائل حملہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

ایران کا اسرائیلی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر میزائل حملہ

تل ابیب ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 جون 2025ء ) ایران نے اسرائیلی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر میزائل حملہ کردیا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا ہے، قیصریہ میں واقع اسرائیلی وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جنگ شروع ہونے کے بعد پناہ گاہ میں مقیم نیتن یاہو آج ہی اپنے بنکر سے باہر آئے تھے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے ایک نئی سرخ لائن عبور کرلی، ایران کے حملے جاری رہیں گے، ہماری کارروائیوں کا مقصد صرف اور صرف اپنا دفاع یقینی بنانا ہے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی ایران کے نطنز ریکٹر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرے۔

(جاری ہے)

تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے امریکہ کی آشیرباد کے بغیر ناممکن تھے، اسرائیل نے اہم ایرانی عہدیدار شہید کرکے جوہری مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، اسرائیل اب ایٹمی تنصیبات پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل کے توانائی کے ڈھانچوں پر حملے جنگ کو خلیجِ فارس تک لے آئے ہیں، ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے دفاع میں کیا، اپنے حملوں میں ایران نے اسرائیل کے فوجی اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا۔

ایرانی وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کو مکتوب بھیج کر اسرائیلی حملے میں شریک نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن امریکہ کی اسرائیلی حملوں کی پشت پناہی کے ثبوت موجود ہیں، اسرائیل کے خلاف جنگ کو ایران دیگر ممالک تک توسیع کرنے کا خواہاں نہیں اگر مجبور کیا گیا تو ایران جنگ کو دیگر ممالک تک بڑھانے پر غور کرسکتا ہے، ایران اپنا دفاع کر رہا ہے جو اس کا اصولی حق ہے، ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حصول سے روکے، یورینیم کی افزودگی 60 فیصد سے زیادہ کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسرائیل کے رہائش گاہ

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام