12 سال بعد سیالکوٹ ایکسپریس ٹرین کی سروس بحال، روٹ کیا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
سیالکوٹ ایکسپریس ٹرین کو 12 سال کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے، جس کا سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن پر شاندار استقبال کیا گیا۔ ٹرین کے اسٹیشن پر پہنچنے پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، ڈھول کی تھاپ اور روایتی رقص سے ماحول خوشگوار ہو گیا۔
سیالکوٹ ایکسپریس لاہور، وزیرآباد اور سیالکوٹ کے درمیان چلائی جائے گی۔ اسٹیشن ماسٹر کے مطابق یہ ٹرین لاہور سے وزیرآباد کے راستے سیالکوٹ جائے گی اور واپس اسی روٹ سے لاہور آئے گی۔
مزید پڑھیں: حکومت بلوچستان کا کوئٹہ شہر کے اندر پیپلز ٹرین چلانے کا فیصلہ
تفصیلات کے مطابق 171 اپ ٹرین لاہور ریلوے اسٹیشن سے صبح 5 بجے روانہ ہو کر دن 10 بجکر 50 منٹ پر وزیر آباد پہنچے گی جبکہ 172 ڈاؤن وزیر آباد ریلوے اسٹیشن سے شام 4 بجے روانہ ہو کر رات 9 بجکر 50 منٹ پر لاہور پہنچے گی۔
ٹرین 5 اکانومی کلاس کوچز،ایک ٹی ایل وین اور ایک بریک وین پر مشتمل ہوگی۔ شاہدرہ باغ، نارنگ، بدو ملہی، نارووال، قلعہ صوبھا سنگھ، پسرور، چونڈا، سیالکوٹ اور سمبڑیال سٹاپ ہوں گے۔
سیالکوٹ کے عوام ایک عرصے سے اس ٹرین کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے، جو آج پورا ہوگیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سیالکوٹ ایکسپریس سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیالکوٹ ایکسپریس سیالکوٹ ایکسپریس ریلوے اسٹیشن
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔