ایرانی ٹی وی نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران اسرائیل پر تاریخ کے سب سے بڑے اور شدید میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے، ایران کی آواز بزدلانہ حملوں سے دبائی نہیں جا سکتی۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران پر حملے شروع کردیے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر بھی میزائل داغا گیا۔ براہ راست نشریات کے دوران ٹی وی چینل کی خاتون اینکر سحر امامی سیٹ پر موجود رہیں، استوڈیو میں دھواں پھیلنے سے اٹھ کر گئیں اور دوبارہ نشریات جاری رکھیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پانچ منٹ کے بعد خاتون اینکر سحر امامی نے جو دو بچوں کی ماں ہیں، دوبارہ اسکرین پر آکر نشریات شروع کر دیں۔ اس حملے کے بعد ایرانی ٹی وی چینل نے عبرانی زبان میں اسرائیلی ٹی وی چینلز کے لیے وارننگ جاری کردی، اور لکھا کہ اسرائیلی ٹی وی چینلز خالی کر دیے جائیں۔ ایرانی ٹی وی نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران اسرائیل پر تاریخ کے سب سے بڑے اور شدید میزائل حملے کی تیاری کر رہا ہے، ایران کی آواز بزدلانہ حملوں سے دبائی نہیں جا سکتی۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے حیفا ریفائنری پر ایرانی حملے میں 3 ہلاکتوں کا اعلان کردیا، ایران نے اتوار کے روز حیفا کی تیل ریفائنری کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام