تصویر سوشل میڈیا۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گورننس اور ادارہ جاتی ترقی میں تعاون کا نیا سنگِ میل طے ہوا ہے۔ 

اسلام آباد سے وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیہ کے مطابق  پاکستان یو اے ای کے درمیان مفاہمتی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ معاہدہ حکومتی ترقی اور ادارہ جاتی تجربات کے تبادلے سے متعلق ہے۔ 

اعلامیہ کے مطابق معاہدے کے تحت انسانی وسائل، شہری سہولیات اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دو طرفہ تعاون ہوگا، یو اے ای کے وفد کی قیادت نائب وزیر برائے مسابقتی امور عبداللہ ناصر لوطہ نے کی۔ 

اعلامیہ کے مطابق معاہدے کے بعد یو اے ای کے وفد کی وفاقی وزیر احسن اقبال سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا معاہدہ گورننس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور اداروں کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا غماز ہے، معاہدے کا مقصد زیادہ جوابدہ، مؤثر اور جدید سوچ کے حامل سرکاری نظام کی تعمیر ہے۔ 

انھوں نے کہا ابوظبی اکاؤنٹیبلٹی اتھارٹی کا ماڈل مؤثر اور جدید احتسابی نظام کی بہترین مثال ہے، پاکستان کے ادارے بھی ایسے نظام سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ 

وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت سول سروس اصلاحات کے ایک مربوط خاکے کو حتمی شکل دے رہی ہے، اس کا مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو عوامی خدمت، کارکردگی اور جوابدہی پر مبنی ہو۔ 

اعلامیہ کے مطابق وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی بھی اجلاس میں شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان گورننس میں جدیدیت کی طرف گامزن ہے، معاہدے سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اشتراک کے عمل کو مزید تقویت ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اعلامیہ کے مطابق یو اے ای کے

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی