خامنہ ای کو قتل کرنے سے جنگ ہمیشہ کیلیے ختم ہوجائے گی؛ نیتن یاہو کا اصرار
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسترد کیے جانے کے باوجود ڈھٹائی پر مُصر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے قتل کو تنازع کا حل بتایا ہے۔
اے بی سی نیوز کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کردینے سے جنگ میں شدت نہیں آئے گی بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نیتن یاہو نے اس امکان کو رد کرنے سے انکار کردیا کہ اسرائیل خامنہ ای کو نشانہ نہیں بنائے گا۔
نتن یاہو نے کہا کہ ایران ہمیشہ کے لیے جنگ چاہتا ہے۔ وہ ہمیں ایٹمی جنگ کے دہانے پر لے آیا ہے۔ اسرائیل جو کر رہا ہے، وہ اس کی جارحیت کا خاتمہ ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں : ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کردیا، امریکی عہدیدار
اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم پچاس برسوں سے ایران کی جنگ دیکھ رہے ہیں۔ برائی کی قوتوں کا مقابلہ کر کے ہی امن حاصل کیا جاسکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو مسترد کردیا تھا۔
جب نیتن یاہو سے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو ویٹو کرنے پر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہم وہ کر رہے ہیں جو ہمیں کرنا ہے۔ میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔
انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیل ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو پہلے ہی نشانہ بنا چکا ہے اور ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے وہ سب کچھ کرے گا جو ضروری ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خامنہ ای کو نیتن یاہو یاہو نے کہا کہ کو قتل
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔