پاک ایران کشیدگی: تفتان بارڈر مکمل بند، غذائی و ایندھن بحران کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان اور ایران کے درمیان واقع تفتان بارڈر کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے جس کے باعث سرحدی علاقے میں غذائی اشیاء اور ایندھن کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بارڈر کی بندش کے بعد تفتان بازار بھی جزوی طور پر بند ہو چکا ہے جبکہ ایران سے سستے ایرانی پٹرول کی ترسیل رکنے کے باعث پٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صورتحال کے باعث مقامی شہریوں کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پشین میں زلزلے کے شدید جھٹکے، شہری خوفزدہ
ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ دو روز میں ایران سے ڈھائی سو سے زائد پاکستانی طلبہ تفتان پہنچ چکے ہیں جبکہ مزید 100 سے زائد طلبہ کی آمد آج متوقع ہے۔ اسی طرح ایران میں موجود زائرین کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق دو ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کی واپسی متوقع ہے۔
انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ایران سے آنے والے تمام شہریوں کے لیے بارڈر پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پاکستان سے ایران جانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
کاہنہ میں غیرت کے نام پر میاں بیوی قتل
مقامی حکام اور امدادی اداروں کی جانب سے سرحدی شہر تفتان میں صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔