UrduPoint:
2026-06-03@05:46:33 GMT

ملک میں ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ملک میں ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا

لاہور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔ 17 جون 2025ء ) ملک میں ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا، بحران پیدا ہونے کی صورت میں فی کلو ایل پی جی کی قیمت 500 روپے تک پہنچ جانے کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں ایل پی جی کا تاریخ ساز شارٹ فال کا خدشہ ہے، حکومت ایل پی جی کی امپورٹ کے لیے فوری طور پر خصوصی بندوبست کرے ورنہ پاکستان میں ایل پی جی کا شارٹ فال شروع ہو جائے گا۔

عرفان کھوکھر نے کہا کہ بحران کے سبب گھریلو سلنڈر کی قیمت 5000 سے 6000 ہزار روپے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، فی کلو کی قیمت 450 سے 500 روپے تک متوقع ہے، کمرشل سلنڈر 20,000 روپے سے 23,000 روپے تک پہنچ جائے گا۔ چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت 6000میٹرک ٹن ہے، مقامی پیداوار ماہانہ 60,000سے 70,000 میٹرک ٹن ہے، پورٹ قاسم پر موجود ایل پی جی ٹرمینل ایس ایس جی سی اور ای وی ٹی ایل کی اسٹوریج 6500میٹرک ٹن ہے، پورٹ قاسم پر ٹوٹل اسٹوریج 13000میٹرک ٹن ہے جوکہ پاکستان کیلئے ناکافی ہے، بنگلہ دیش جیسے ملک میں ایل پی جی کی اسٹوریج 300,000میٹرک ٹن ہے، فوری طور پر پاکستان کی ایل پی جی اسٹوریج میں اضافہ کیا جائے۔

(جاری ہے)

عرفان کھوکھر نے کہا کہ پاک ایران بارڈر سے 100,000 میٹرک ٹن ماہانہ ایل پی جی کی درآمد کی جاتی تھی جبکہ اس وقت بارڈر بند ہے، پاکستان میں ایل پی جی کی مقامی پیداواری کمپنی او جی ڈی سی ایل کو مافیا کے ہاتھ سے حکومت اپنی تحویل میں لے، ایس ایس جی سی، پی ایس او اور پارکو کے ذریعے پاکستان کی تمام ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں میں پی پی ایل کے فارمولے کے تحت بیڈ کے ذریعے تقسیم کی جائے، او جی ڈی سی ایل کی گیس اس وقت گیس مافیا کے ہاتھ میں ہے، مقامی پیداواری گیس زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟ عرفان کھوکھر نے مزید کہا کہ تمام ڈسٹری بیوٹرز اور دکان دار کو چاہیے کے اپنا اسٹاک فل رکھیں، ہماری جانب سے وزیراعظم پاکستان اور وزیر پٹرولیم کو درخواست لکھ دی گئی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عرفان کھوکھر نے میں ایل پی جی ایل پی جی کی کا خدشہ

پڑھیں:

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا

کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔

اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔

موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم