آیت اللہ خامنہ ای آسان ہدف، لیکن فی الحال نشانہ نہیں بنائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر نے کہا ہے کہ امریکا کو معلوم ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ سپریم لیڈر اس وقت ہمارے لیے ایک آسان ہدف ہیں لیکن فی الحال ہم انھیں نشانہ نہیں بنایں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کے منصوبے کو امریکی صدر نے مسترد کردیا تھا لیکن اب کھلی دھمکی دی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو معلوم ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خامنہ ای اس وقت ہمارے لیے ایک آسان ہدف ہیں لیکن فی الحال ہم انھیں نشانہ نہیں بنایں گے، انہوں نے مزید کہا کہ امریکا شہریوں یا فوجیوں پر ایرانی میزائل حملے برداشت نہیں کرے گا۔
اس بیان کے فوراً بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ کی جس میں صرف ایک جملہ لکھا تھا "UNCONDITIONAL SURRENDER" (بلا مشروط ہتھیار ڈال دو)۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایرانی حملوں میں 24 اسرائیلی مارے گئے اور متعدد زخمی ہیں جب کہ اسرائیل کے حملوں میں ملٹری لیڈرشپ اور ایٹمی سائنسدانوں سمیت 224 ایرانی جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سپریم لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ خامنہ ای
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔