رپورٹ کے مطابق صیہونی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے حملوں اور جاری تصادم کے ساتھ ہی، مقبوضہ علاقوں کے متعدد شاپنگ سنٹرز جیسے کریون، رمات آویو، گرینڈ مال پٹاہ ٹیکوا اور گرینڈ کینین بی ایس سیکیورٹی خطرات کے باعث بند ہو گئے ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ صیہونی میڈیا ذرائع نے ایران کے کامیاب حملوں کے بعد مقبوضہ علاقوں میں مارکیٹوں کے بند ہونے اور شدید اشیاء کی قلت کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صیہونی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے حملوں اور جاری تصادم کے ساتھ ہی، مقبوضہ علاقوں کے متعدد شاپنگ سنٹرز جیسے کریون، رمات آویو، گرینڈ مال پٹاہ ٹیکوا اور گرینڈ کینین بی ایس سیکیورٹی خطرات کے باعث بند ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان مراکز کے منتظمین نے وزیرِ اقتصاد کو فوری خط لکھ کر دوبارہ کھولنے کی درخواست کی ہے تاکہ مقبوضہ علاقوں کے رہائشی اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ تاہم، مناسب حفاظتی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ مراکز گاہکوں سے خالی ہو گئے ہیں۔اسی دوران، ادائیگی کی کمپنی "شیبا" کے اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں کریڈٹ کارڈ سے خریداری کی مقدار میں 11.

9 فیصد کمی آئی ہے جو تقریباً 1.319 ارب شیکیل رہ گئی ہے۔

آن لائن خریداری بھی فضائی حدود کے بند ہونے اور تجارتی پروازوں کے معطل ہونے کی وجہ سے شدید کمی کا شکار ہے۔ صیہونی میڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے برعکس، گروسری اور خوراک کی اشیاء کی خریداری میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے، حتیٰ کہ معدنی پانی کی بوتلیں چند منٹوں میں شیلف سے خالی ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف، سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے مرغی کے گوشت، دودھ اور دودھ کی مصنوعات کی قلت نے لمبی قطاریں اور صارفین میں تشویش بڑھا دی ہے۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے ساتھ چند دن کی جنگ نے صیہونی ریژیم کو نہ صرف سیکیورٹی چیلنجز بلکہ ایک وسیع اقتصادی بحران سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ جنگ جاری رہی تو تل ابیب کی معیشت مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مقبوضہ علاقوں صیہونی میڈیا کے مطابق ایران کے کے ساتھ کیا ہے بند ہو

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم