ملک بھر کے چیمبرز اور ٹریڈ یونینز کا ایف پی سی سی آئی عہدیدران کو ایک سال توسیع دینے کا مطالبہ

ایف پی سی سی آئی کے الیکشن اگلے سال چیمبرز کے ساتھ کروائے جائیں ، مدت میں ایک سال توسیع سے مشاورتی عمل میں بہتری آئیگی، نمائندگان

ایف پی سی سی آئی الیکشن میں توسیع کیلئے کابینہ یا پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ، معاملے کو وفاقی کابینہ میں اٹھایا گیا ہے ،ڈی جی ڈی جی ٹی او

اسلام آباد ()ڈی جی ٹی اوکے زیر اہتمام ٹریڈ آرگنائزیشن ایکٹ 2013میں اصلاحات کے حوالے سے مشاورتی سیشن ہوا ، کیپٹل آفس ایف پی سی سی آئی میںمنعقدہ مشاورتی سیشن میں وفاقی سیکرٹری تجارت جواد پال ، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ ، ڈائریکٹر جنرل ڈی جی ٹی او بلال خان پاشاو دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بزنس کمیونٹی کی طرف سے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے مختلف تجاویز دی گئیں ۔اجلاس میں تمام چیمبرز اور ٹریڈ یونینز کا ایف پی سی سی آئی عہدیدران کو ایک سال توسیع دینے کا مطالبہ کیا ۔ نمائندگان چیمبرز و ٹریڈ یونینز نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے الیکشن اگلے سال چیمبرز کے ساتھ کروائے جائیں ،ایف پی سی سی آئی عہدیداران کی مدت میں ایک سال توسیع سے مشاورتی عمل میں بہتری آئیگی۔ ڈائریکٹر جنرل ڈی جی ٹی او بلال خان پاشا نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی الیکشن میں توسیع کیلئے کابینہ یا پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہے ، معاملے کو وفاقی کابینہ میں اٹھایا گیا ہے ، امید ہے بزنس کمیونٹی کو مثبت خبر ملے گی ۔وفاقی سیکرٹری تجارت جواد پال نے مشاورتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر تجارت کے ویژن کے تحت ٹریڈ آرگنائزیشن رولز میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، اصلاحات کے حوالے سے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی ٹی او کا کردار قابل تعریف ہے، رولز کی اپ گریڈیشن سے یقینی بنا رہے ہیں کہ خواتین اور سمال چیمبرز کی آواز کو سنا جا سکے ، ہم نے بزنس کمیونٹی کے اعتماد کو بحال کرنا ہے،اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے مشاورتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی ٹی او نے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز کے حوالے سے جامع مشاورت کی ہے، ٹریڈ آرگنائزیشن رولز کے حوالے سے تمام ٹریڈ باڈیز کو سنا جا رہا ہے جو خوش آئند ہے ، ٹریڈ آرگنائزیشن رولز کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے اعتماد میں لینے کی مکمل تائید کرتے ہیں، فیڈریشن ٹریڈ آرگنائزیشنز کی بہتری اور معاشی استحکام کیلئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتی ہے۔ مشاورتی سیشن میں بڑے شہروں میں ڈی جی ٹی او کے ریجنل آفس قائم کرنے کی تجویز دی گئی جس پر ڈی جی ڈی جی ٹی او بلال خان پاشا نے کہا کہ لاہور اور کراچی میں ایف پی سی سی آئی آفس میں ڈی جی ٹی او کے ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں گے،بزنس کمیونٹی کی تجاویز کو ٹریڈ آرگنائزیشن رولز کا حصہ بنایا جائے ۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹریڈ آرگنائزیشن رولز ایف پی سی سی آئی ایک سال توسیع مشاورتی سیشن بزنس کمیونٹی ٹریڈ یونینز کے حوالے سے ڈی جی ٹی او کہا کہ

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے