آیت اللہ خامنہ ای ہماری ریڈ لائن ہیں، ایران پر اسرائیلی جارحیت کیخلاف کراچی میں خواتین کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ صادق جعفری، علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی اور علامہ علی سجاد عابدی سمیت دیگر علمائے کرام نے کہا کہ ایران پر اسرائیل کا حملہ دراصل پوری امت مسلمہ پر حملہ ہے، ایران نے جس حکمت و بہادری سے دشمن کو جواب دیا وہ قابلِ ستائش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور ایران کے دفاعی جوابی حملوں کی حمایت میں عاشقانِ شہداء اسلام کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر خواتین کے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرے میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، سماجی کارکنان، طلبہ، خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی کھلی جارحیت کا نوٹس لے اور مشرقِ وسطیٰ کے امن کو تباہی سے بچانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علامہ صادق جعفری، علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی اور علامہ علی سجاد عابدی سمیت دیگر علمائے کرام نے کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ہماری ریڈ لائن ہیں، ایران پر اسرائیل کا حملہ دراصل پوری امت مسلمہ پر حملہ ہے، ایران نے جس حکمت و بہادری سے دشمن کو جواب دیا وہ قابلِ ستائش ہے۔
علماء نے مزید کہا کہ اسرائیلی اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ انسانی اقدار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں، ایران نے جوابی حملے کرکے اپنا دفاع کیا ہے جو ہر قانونی طور پر بھی جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین، لبنان، شام اور اب ایران پر حملے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ ہیں، جنہیں روکنا مسلم امہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مظلومینِ عالم کی حمایت جاری رکھیں گے اور ہر پلیٹ فارم پر ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ مظاہرے کا اختتام اجتماعی دعا اور فلسطینی و ایرانی شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران پر اسرائیل کہا کہ
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن