اسلام آباد: دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بین الاقوامی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی پر شدید تنقید کی ہے، امیت شاہ نے کہا تھا کہ نئی دہلی کبھی بھی اسلام آباد کے ساتھ سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کو بحال نہیں کرے گا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق امیت شاہ نے ہفتے کی صبح ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’نہیں، سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا، ہم پاکستان جانے والے پانی کو ایک نہر بنا کر راجستھان لے جائیں گے، پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جو وہ بلاجواز حاصل کر رہا تھا‘۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ کے طاقتور ترین رکن امیت شاہ کے یہ تازہ ترین بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ جب اسلام آباد مستقبل قریب میں معاہدے پر مذاکرات کی امید کر رہا ہے، نئی دہلی اس کے برعکس ارادہ رکھتا ہے۔

امیت شاہ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ ایسے بیانات بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت کی صریح خلاف ورزی کو ظاہر کرتے ہیں، اور نشاندہی کی کہ سندھ طاس معاہدہ ایک غیر سیاسی معاہدہ ہے جس میں یکطرفہ کارروائی کی کوئی گنجائش نہیں۔

دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ بھارت کا معاہدے کو معطل کرنے کا غیر قانونی اعلان بین الاقوامی قانون، معاہدے کی شقوں، اور بین الدولی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسا رویہ ایک غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک مثال قائم کرتا ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے، اور ایک ایسی ریاست کے قابلِ اعتماد اور دیانت دار ہونے پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے، جو کھلے عام اپنے قانونی فرائض سے انکار کرتی ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے ’پانی کو ہتھیار بنانا‘ ایک غیر ذمہ دارانہ عمل ہے، جو کسی ذمہ دار ریاست کے رویے کے خلاف ہے، اور بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی کو فوری یقینی بنائے۔

دفتر خارجہ کے بیان کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ ’پاکستان اپنی طرف سے معاہدے پر مکمل طور پر کاربند ہے اور اپنے جائز حقوق اور حصص کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا‘۔

قبل ازیں جمعہ کی شب اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ نئی دہلی کو سندھ طاس معاہدے کو تسلیم کرنا ہوگا، اور خبردار کیا کہ اگر بھارت معاہدے کی پاسداری سے انکار کرتا ہے تو ’ہم ایک اور جنگ لڑیں گے اور تمام 6 دریا لے لیں گے، ہمیں معلوم ہے کہ اپنے دریاؤں کا دفاع کیسے کرنا ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بھارت کے یکطرفہ فیصلے کی شدید مذمت کی تھی، اسے ’واضح خلاف ورزی اور آبی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ پاکستان قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کے 24 اپریل کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق بھرپور جواب دے گا۔

گزشتہ ماہ ’رائٹرز‘ نے رپورٹ کیا تھا کہ بھارت ایک اہم دریا سے پانی کی مقدار میں ڈرامائی اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو پاکستان کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے۔

اگرچہ دفتر خارجہ نے فوری طور پر ’رائٹرز‘ کے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، لیکن اس نے پہلے کہا تھا کہ معاہدے میں یکطرفہ طور پر پیچھے ہٹنے کی کوئی شق موجود نہیں، اور پاکستان کو بہنے والے پانی کو روکنا ’جنگی اقدام‘ تصور کیا جائے گا۔

اسلام آباد بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی راستے تلاش کر رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ کی مخالفت
مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز ریاست کا پانی پنجاب اور دیگر ہمسایہ ریاستوں کو منتقل کرنے کی مخالفت کی، اور سوال اٹھایا کہ جب ان کے پاس پہلے ہی 3 دریا ہیں اور جموں و کشمیر پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے، تو انہیں مزید پانی کیوں دیا جائے؟۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ کوئی یہ (فیصلہ) قبول نہیں کرے گا، کم از کم میں اسے ابھی قبول نہیں کروں گا، پہلے ہمیں اپنا پانی استعمال کرنے دیں، پھر دوسروں کی بات کریں گے، جموں میں خشک سالی جیسی صورت حال ہے، نلکوں میں پانی نہیں آ رہا۔

وہ مرکزی حکومت کے اُس مبینہ منصوبے پر ردعمل دے رہے تھے جس کے تحت سندھ طاس نظام کے 3 مغربی دریاؤں کے اضافی پانی کو منتقل کرنے کے لیے 113 کلومیٹر طویل نہر کی تعمیر کا امکان دیکھا جا رہا ہے۔

عمر عبداللہ نے ماضی میں ’اجھ‘ کثیرالمقاصد منصوبے اور شاہ پور کندی بیراج کے دوران پانی کی تقسیم پر جھگڑوں کے وقت پنجاب کی طرف سے پانی نہ دینے کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ہم اس وقت شدید بحران کا شکار تھے لیکن انہوں نے ہمیں سالوں تک انتظار کرایا، کئی سال کے بعد ہی شاہ پور کندی بیراج پر کچھ کام ہوسکا ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ نے بین الاقوامی اسلام ا باد امیت شاہ کے خلاف ورزی پانی کو کرتا ہے پانی کی کے لیے کہا کہ تھا کہ نے کہا

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم