(بحریہ ٹاؤن کو غیرقانونی الاٹمنٹ )ایس بی سی اے اور ایم ڈی اے کے متعددافسران کی جائدادیں منجمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) احتساب عدالت کراچی میں ایم نائن موٹروے کے اطراف نجی ہاؤسنگ سوسائٹی (بحریہ ٹاؤن ) کو سرکاری اراضی کی مبینہ غیر قانونی الاٹمنٹ سے متعلق ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کے متعدد افسران کی جایداد منجمد کرنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔ نیب حکام کے مطابق ملزمان نے ملی بھگت سے 16 ہزار 800 ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی، جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ نیب نے نیب آرڈننس کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ابتدائی طور پر 15روز کے لیے ملزمان کی جایداد منجمد کی ہیں جبکہ اس مدت میں توسیع عدالت کی اجازت سے مشروط ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 457 جایداد منجمد کی گئی ہیں، جن میں اعلیٰ سرکاری افسران کی املاک بھی شامل ہیں۔ نیب نے بتایا کہ سابق ڈی جی ایس بی سی اے آغا مقصود عباس کی3، منظور قادر عرف کاکا کی 2، سابق سیکرٹری لینڈ یوٹیلائزیشن ثاقب احمد سومرو کی 1، جاوید حنیف کی 5، سابق ڈپٹی کمشنر ملیر قاضی جان محمد کی 2، سابق ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ ایم ڈی اے صدیق ماجد، محمد شاہد حسین، سید نشاط علی رضوی کی مجموعی طور پر3 اور سابق مختیارکار مراد میمن طفیل خاصخیلی کی 1 جایداد شامل ہے۔ نیب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر جایداد کی منتقلی یا فروخت کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالت نے رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔علاوہ ازیںڈی جی نیب کراچی نے نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 12 کے تحت پاکستان کے مختلف شہروں میں اربوں روپے مالیت کی 457 جایداد کو منجمد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ جایداد بحریہ ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ، ان کے ڈائریکٹرز، احمد علی ریاض ملک، ملک ریاض حسین کے رشتے داروں یعنی وقاص رفت، وسیم رفت اور دیگر تمام ملزمان کے نام پر ہیں، جنہیں ریفرنس نمبر 01/2025ء میں نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت معزز احتساب عدالت کراچی میں زیرِ سماعت ہے۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سندھ حکومت کے افسران کی ملی بھگت سے ضلع ملیر کی 17672 ایکڑ سرکاری زمین، جس کی مالیت 708 ارب روپے ہے، کو غیر قانونی اور ناجائز طریقے سے تبدیل کیا یا ہتھیایا اور اس پر بحریہ ٹاؤن کراچی تعمیر کیا، جو ایم-9 موٹروے کے قریب واقع ہے اور یہ تعمیر قانون کی خلاف ورزی کے تحت کی گئی ہے۔اس سے قبل نیب بحریہ ٹاؤن کی کمرشل جایداد پہلے ہی منجمد کر چکا ہے اور ان جایداد کی تجارتی لین دین کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔نیب نے ملزم ملک ریاض، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، ان کے رشتے داروں اور دیگر ملزمان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (PCL) میں بھی شامل کر دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بحریہ ٹاو ن
پڑھیں:
تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔
چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔