لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ بیوہ خواتین کو محض ہمدردی نہیں، حق اور سہارا بھی دے رہے ہیں۔

بیوہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک پراثر پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دین اسلام نے بیوہ خواتین کو عزت، وقار اور مکمل حقوق کی ترغیب دی ہے اور معاشرے کی ذمے داری ہے کہ وہ ان خواتین کو تنہا نہ چھوڑے۔

انہٟوں نے کہا کہ کشمیر، غزہ اور اب ایران میں جاری جنگوں کے نتیجے میں بیوہ ہونے والی خواتین عالمی ضمیر کیلئے ایک چبھتا ہوا سوال ہیں اور ان کی تکالیف کو صرف ہمدردی نہیں بلکہ عملی سہارا دینا ناگزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پنجاب ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ پروگرام کے تحت بیوہ خواتین اور سنگل مدرز کو خصوصی ترجیح دے رہی ہے تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں، اس کے علاوہ ان خواتین کے بچوں کو ’’ہونہار سکالرشپ‘‘ پروگرام میں بھی ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جا رہا ہے تاکہ تعلیم کی راہ میں رکاوٹیں نہ آئیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ ویمن پروٹیکشن اتھارٹی اور محکمہ سوشل ویلفیئر کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بیوہ خواتین کی مکمل معاونت کو یقینی بنائیں اور انہیں ہر ممکن سرکاری مدد فراہم کریں، میرا عزم ہے کہ پنجاب کی کوئی بیوہ خود کو اکیلا محسوس نہ کرے، ریاست کو ہر لمحہ اپنے ساتھ کھڑا پائے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مریم نواز خواتین کو

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف