اسرائیل کا ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام، جوابی کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسرائیل کا ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام، جوابی کارروائی کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 24 June, 2025 سب نیوز
تل ابیب، تہران(آئی پی ایس) اسرائیل نے جنگ بندی نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے کا الزام لگا دیا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد عوام کو اگلے نوٹس تک محفوظ مقام پر جانے کی ہدایات کر دی گئی ہیں جبکہ دفاعی نظام خطرے سے نمٹنے کے لیے فعال ہے۔
ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے 11 اسرائیلی ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے، ایرانی میزائل نے ایک عمارت کو نشانہ بنایا جو مکمل تباہ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کو ایران پر حملے کا حکم دے دیا گیا ہے، جنگ بندی کی خلاف ورزی پر تہران کے مرکز میں اہداف پر حملوں سے جواب دیں گے۔
ایران کی تردید
دوسری جانب ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایران نے جنگ بندی خلاف ورزی کے اسرائیلی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیل پر میزائل حملے کی خبر جھوٹی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنیتن یاہو نے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کب سے کر رکھی تھی؟ امریکی اخبار کا تہلکہ خیز انکشاف نیتن یاہو نے ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کب سے کر رکھی تھی؟ امریکی اخبار کا تہلکہ خیز انکشاف ایران کے بعد غزہ؟ اسرائیلی اپوزیشن نے جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ کا غزہ میں بھی جنگ بندی کا مطالبہ امریکی درخواست پر قطر کی ثالثی: ایران اور اسرائیل میں جنگ بندی کا آغاز اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق کردی، عملدرآمد شروع جنگ بندی سے پہلے ایران کا اسرائیل پر میزائل حملہ، 4 اسرائیلی ہلاک، متعدد زخمیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی ایران پر کا الزام
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔