ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ شروع،موسمیات نے الرٹ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آج بدھ کے روز ملک کے بیشتر علاقو ں کشمیر ، بالائی خیبرپختونخوا، خطہ پوٹھوہار اورشمال مشرقی پنجاب میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان۔
بدھ کے روز کشمیر ، خیبرپختونخوا، خطہ پوٹھوہار ، اسلام آباد اوربالائی/ مشرقی پنجاب میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر تیز/موسلادھار بارش کی توقع۔ ملک کے دیگرعلاقو ں میں موسم گرم اورشدید حبس برقرار رہنے کا امکان ۔
گذشتہ 24 گھنٹے کا موسم ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب جبکہ میدانی علاقوں میں شدید گرم رہا۔ تا ہم بالائی پنجاب اور کشمیر میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ سب سے زیادہ بارش: پنجاب:چکوال05، اسلام آباد(زیرو پوائنٹ)، سیالکوٹ (سٹی) 01 اورکشمیر : راولاکوٹ میں 01ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
آج ریکارڈ کئے گئے زیادہ سےزیادہ درجہ حرارت : سبی ،بھکر،چلاس46،دادو،بہاولنگر، تربت، دالبندین،جیکب آباد، نوکنڈی اور لیہ میں 45ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
بدھ (رات): ا سلام آباد اور گردونواح میں حبس اور مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع۔
بدھ کے روز: ا سلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر تیز/موسلادھار بارش کی توقع ۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: تیز ہواو ں اور گرج چمک کے ساتھ بارش چند مقامات پر تیز
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔