29 سالہ ائیرہوسٹس سے تعلقات؛ 17 سالہ فٹبالر نے خبروں پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
اسپینیش فٹبال کلب بارسلونا کے 17 سالہ نوجوان اسٹرائیکر لامین یامل نے 30 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ایئر ہوسٹس فاٹی وازکوز سے ڈیٹنگ کی خبروں پر لب کشائی کردی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپنیش فٹبالر لامین یامل کا کہنا ہے کہ 30 سالہ فاٹی وازکوز محض انکی دوست ہیں، دونوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی رشتہ یا رومانوی تعلق نہیں ہے۔
لامین یامل کا کہنا تھا کہ ہم صرف چند دن کی چھٹیاں ساتھ گزرانے گئے تھے، خبروں کے ذریعے جن افواہوں کو پھیلانے کی کوشش کی گئی، ایسا کچھ نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: 17 سالہ فٹبالر سے 29 سالہ ائیرہوسٹس کے تعلقات؛ قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں
قبل ازیں اسپینیش فٹبالر کیساتھ تعلقات کی خبروں کی زینت بننے والی 30 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ایئر ہوسٹس فاٹی وازکوز کو قتل کی دھمکیاں دی جارہیں تھی۔
مزید پڑھیں: کلب ورلڈکپ کے دوران پریزینٹر کے "نامناسب لباس" نے نئی بحث چھیڑ دی
فاٹی وازکوز کو نہ صرف شدید نفرت انگیز تبصروں کا سامنا تھا بلکہ ایک کم عمر کھلاڑی کے ساتھ "نامناسب تعلق" رکھنے کا الزام لگایا جارہا تھا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی فٹبال ٹیم سے ملاقات؛ کیا ٹیم میں کوئی ٹرانس جینڈر خاتون ہے!
دوسری جانب اسپینیش فٹبالر لامین یامل خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا، جس کے باعث معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا تھا۔
واضح رہے کہ یورپ کے بعض قوانین کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کے ساتھ تعلقات اخلاقی اور قانونی لحاظ سے حساس سمجھے جاتے ہیں، چاہے تعلق رضامندی پر ہی مبنی کیوں نہ ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لامین یامل
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔