بھارت ظلم و تشدد سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکتا، محمود ساغر
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
راولاکوٹ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حریت رہنما کا کہنا تھا کہ بھارت فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما محمود احمد ساغر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق محمود احمد ساغر نے راولاکوٹ میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت فوجی طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو کمزور کرنے کیلئے طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کبھی بھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہو گا اور کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ محمود ساغر نے کہا کہ نہتے کشمیری آج بھی اپنی خون سے آزادی کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں اور تحریک آزادی کشمیر قربانی، عزم اور صبر کی ایک زندہ تاریخ بن چکی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں جاری مظالم کا نوٹس لیں اور مظلوم اقوام کی عملی مدد کریں۔ کانفرنس میں ایڈووکیٹ پرویز احمد، راجہ شاہین، ذاہد صفی اور ملک محمد اسلم نے بھی شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔