ویب ڈیسک : ضلع ٹانک میں تین سرکاری افسر اغوا ہوگئے ۔
واردات تھانہ ہتھالہ کے قریب پیش آئی ہے، تھانہ ہتھالہ کے قریب 3 سرکاری افسر اغوا کر لئے گئے ، جو ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر،ایکٹنگ ڈی ایچ او ٹانک اور سب ڈویژن جنڈولہ محکمہ ہیلتھ اکاؤنٹنٹ میں کام کرتے تھے
تینوں افراد اپنی ڈیوٹی کے لئے ٹانک آرہے تھے کہ اسی دوران اغوا کر لئے گئے، اغواء ہونے والوں کو ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر نوید ظفر، ایکٹنگ ڈی ایچ او ٹانک عمران بیٹنی اور اکاؤنٹنٹ عنایت اللہ بیٹنی کے نام سےشناخت کیا گیا، واقعہ کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
لاہور میں 262 ٹریفک حادثات ؛340 افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔