پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس میں ایران کے خلاف اسرائیل کی بلاجواز اور غیر قانونی فوجی کارروائیوں کی مذمت کی جبکہ غزہ صہیونیوں کی پُرتشدد کارروائیوں اور انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں پاکستانی وفد ایس سی او اجلاس میں شریک ہوا جہاں وزیر دفاع نے ایس سی او کے اصولوں اور مقاصد سے پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ میں فوری طور پر مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے، عالمی برادری دیرینہ حل طلب تنازعات مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا پُرامن حل یقینی بنائے، ایسے حل طلب تنازعات عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

بھارت کا ایس سی او اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار

بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پہلگام واقعے کا ذکر نہ ہونے پر دستخط سے انکار کیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ خطے کی پائیدار خوشحالی کے مشترکہ وژن کے حصول کےلیے پُرامن اور مستحکم افغانستان ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی ایک مشترکہ خطرہ ہے جس سے اجتماعی طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے، تمام ریاستیں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایس سی او ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

وزیر دفاع نے عالمی سطح پر جاری تنازعات پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وزیر دفاع ایس سی او

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم