چین کا گرین ترقیاتی ماڈل پاکستان کے لیے ایک قابل تقلید حوالہ ہے، رومینہ خورشید عالم
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
اسلام آ باد :وزیراعظم پاکستان کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے کہا ہےکہ گلوبل ساؤتھ ممالک کے لیے ڈیجیٹل-گرین ترقی نہایت اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار رومینہ خورشید عالم نے جمعرات کے روزچائنا میڈیا گروپ اور ایشین انسٹیٹیوٹ آف ایکو سولائزیشن، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے باہمی اشتراک سے منعقدہ سیمینار سے کیا۔
انہوں نے اس موقع پر ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی دسویں سالگرہ کے موقع پر اسے اعتماد ، ترقی اور کارکردگی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ، ان کا کہنا تھا کہ” اے آئی آئی بی ” کا ڈیجیٹل ہم آہنگی کا نظریہ وقت کی اہم ضرورت ہے، چنانچہ گلوبل ساؤتھ ممالک کیلئے یہ اہم موقع ہے کہ وہ اے آئی آئی بی جیسے اداروں کے ساتھ مل کر ایسے ماڈلز پر کام کریں جو معیشت کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ ماحول ، معاشرت اور انصاف کو بھی اپنی بنیاد بنائیں۔ رومینہ خورشید عالم نے چین کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کو گلوبل ساؤتھ اور بالخصوص پاکستان کیلئے تعمیر و ترقی کا اہم موقع قرار دیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کا کامیاب گرین ترقیاتی ماڈل پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابل تقلید حوالہ فراہم کرتا ہے۔ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے ڈیجیٹل-گرین ہم آہنگی وژن کے تحت ایک فکری سیمینار کا انعقاد راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کیا گیا۔ اس سیمینار کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی استحکام کو یکجا کرتے ہوئے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے ایک متوازن اور جامع ترقیاتی ماڈل کی تشکیل پر غور کرنا تھا۔ سیمینار کے آغاز میں “اے آئی ای آر ڈی ” کے سی ای او شکیل احمد رامے نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی پذیر دنیا کو ایسے ماڈلز کی اشد ضرورت ہے جو ڈیجیٹل ترقی کو ماحولیاتی ہم آہنگی کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے ایک منصفانہ مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔
انہوں نے اے آئی آئی بی کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ “ڈیجیٹل-گرین ہم آہنگی” صرف ایک نظریہ نہیں بلکہ ترقی کا نیا عالمی راستہ ہے۔سیمینار میں ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین اور دیگر رکن ممالک کی مشترکہ کوششوں سے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک ایشیائی ممالک میں گرین ترقی کو عملی طور پر فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کر رہاہے اور متعلقہ ممالک میں موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنج سے نمٹنے میں بھی نمایاں مدد ملی ہے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ، عثمان شوکت نے تجارتی اداروں اور چیمبرز کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقے کو نہ صرف مالی فوائد بلکہ ماحولیاتی ذمہ داری کا بھی ادراک ہونا چاہیے، اور اس ضمن میں آر سی سی آئی گراں قدر خدمات پیش کر رہا ہے۔ سفارت کار میجر جنرل (ر) رضا محمد نے عالمی سیاست اور ماحولیات کے باہمی تعلق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی مالیات میں توازن لائے بغیر عالمی امن اور استحکام ممکن نہیں۔اس موقع پر نائب صدر پاکستان – چائنا کامرس الائنس انٹرنیشنل بلال جنجوعہ کا کہنا تھا کہ نجی شعبہ اگر ماحولیاتی، سماجی اور گورننس اصولوں کو اپنائے، تو ڈیجیٹل-گرین انقلاب کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ سابق صدر و گروپ لیڈر، آر سی سی آئی سہیل الطاف نے چین کی بے مثال ترقی کو سامنے رکھتے ہوئے وژنری اور دانش مند قیادت کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا، جو موجودہ مفادات پر اکتفا کرنے کے بجائے آئندہ نسلوں کے لیے بھی سوچ رکھتی ہو۔سیمینار سے خطاب میں سابق ڈائریکٹر سی پیک حسان داؤد بٹ کا کہنا تھا کہ پالیسی، تحقیق اور عملدرآمد کا مربوط عمل ہی حقیقی ترقی کی ضمانت ہے اور اس تناظر میں چین کا کردار بے مثال اور لائقِ تحسین ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ کا اقدام بھی چین کی گزشتہ چار سے زائد دہائیوں کی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسیوں کے تحت اُن قابل ذکر اقتصادی اور سماجی کامیابیوں میں شامل ہے ،جنہیں عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر سراہا گیا ہے۔ سیمینار کے اختتام پر یہ عزم ظاہر کیا گیا کہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے ڈیجیٹل-گرین وژن کی روشنی میں پائیدار، منصفانہ اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔یہ سیمینار اس حقیقت کا مظہر تھا کہ ترقی کا مستقبل صرف ٹیکنالوجی یا ماحولیات نہیں، بلکہ ان دونوں کی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک رومینہ خورشید عالم ڈیجیٹل گرین ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے ہم ا ہنگی انہوں نے اے ا ئی ا کہ ترقی تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔