سائنس دانوں کا بڑا کارنامہ: انسانی دل کے برقی نظام کی ڈیجیٹل نقل تیار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چلی میں سائنسدانوں نے طب کی دنیا میں ایک بڑی پیشرفت کرتے ہوئے انسانی دل کے برقی نظام کی ڈیجیٹل نقل تیار کر لی ہے، جو مستقبل میں علاج کے طریقوں کو یکسر بدل سکتی ہے۔
یہ ماڈل دل کے اندر برقی سگنلز کی ترسیل کرنے والے Purkinje network کو نقل کرتا ہے اور اسے مریض کے ای سی جی ڈیٹا کی بنیاد پر انفرادی طور پر ڈھالا جا سکتا ہے۔
یہ تحقیق ملینیئم انسٹی ٹیوٹ فار انجینیئرنگ اینڈ آرتیفیشل انٹیلیجنس فار ہیلتھ کی ٹیم نے چلی کی مختلف جامعات کے تعاون سے کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کمپیوٹر ماڈل کے ذریعے برقی خرابیوں کی شناخت غیر مداخلتی طریقے سے ممکن ہو سکے گی، جس سے دل میں کیتھیٹر ڈالنے یا پیچیدہ برقی میپنگ کی ضرورت میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
اس ڈیجیٹل دل ماڈل کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ ڈاکٹرز اصل مریض پر علاج آزمانے سے پہلے ایک ورچوئل مریض پر تجربات کر سکیں گے۔ خاص طور پر پیس میکر نصب کرنے کے فیصلے میں یہ ماڈل انقلابی کردار ادا کرے گا، کیونکہ ڈاکٹر مختلف مقامات پر پیس میکر لگا کر جانچ سکیں گے کہ کون سا مقام سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل میں شخصی علاج یا personalized treatment ممکن ہوگا، جس میں ہر مریض کے لیے اس کا ذاتی دل ماڈل تیار کیا جائے گا اور علاج اسی حساب سے ترتیب دیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف علاج کے نتائج بہتر ہوں گے بلکہ مریضوں کو غیر ضروری جراحی یا ناکام طریقہ علاج سے بھی بچایا جا سکے گا۔
یہ پیشرفت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طب اور ٹیکنالوجی کے ملاپ سے انسانی صحت کے لیے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ چلی کے محققین کی یہ کامیابی عالمی سطح پر امراضِ قلب کے علاج میں ایک نئے دور کی بنیاد ڈال سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔