پی ٹی آئی رہنماء ہی پارٹی کو تباہ کر رہے ہیں، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ کو پیش ہونے سے قبل ہی متنازع بنا دیا ہے، بجٹ کی ڈرافٹنگ سلمان اکرم راجہ نے کی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماء ہی اپنی پارٹی کی تباہی کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو اپنے ہی لوگوں نے متنازع بنایا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ کو پیش ہونے سے قبل ہی متنازع بنا دیا ہے، بجٹ کی ڈرافٹنگ سلمان اکرم راجہ نے کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپنی ہی پارٹی کی تباہی کر رہے ہیں، پنجاب، سندھ اور کوئٹہ میں کسی نے بجٹ کو متنازع نہیں بنایا۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ یوٹیوب چینلز بندش کی بندش سے بہت سے لوگوں کی دکانیں بند ہو جائے گی، پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو اپنے ہی لوگوں نے متنازع بنایا ہے، سوشل میڈیا سے وابسطہ لوگ پارٹی کے پیچھے پڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سال سے احتجاج کا اعلان ہوا ہے بانی کی رہائی کے لئے احتجاج کیوں نہیں کیا جا رہا، ایک سال قبل پارٹی کہاں کھڑی تھی اور آج کہاں کھڑی ہے؟ سب کو نظر آ رہا ہے، وزیر اعلی ہاوس کے 11 کروڑ روپے کے بسکٹ پر خرچ کرنے کا معاملہ سوشل میڈیا پر ہے۔ شیر افضل نے کہا کہ مجھے میرے حلقے کے لیے فنڈز نہیں دیا گیا اور مجھے پارٹی سے بھی نکال دیا، اگر صوبائی حکومت نے اے ڈی پی نہیں دی تو مرکز کے پاس جاؤں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چائے بسکٹ کے نام پر وزیراعلی کو بدنام کیا جارہا ہے، اسکینڈل تو وزیراعلی پنجاب کے خلاف بھی آئے، اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ شیر افضل نے کہا
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔