گلگت بلتستان اسمبلی، آغا خان پراپرٹی ایکٹ 2025ء متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
رکن اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد آغا خان چہارم کی گلگت بلتستان میں موجود جائیداد ان کے جانشین آغا خان پنجم کے سپرد کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان اسمبلی نے آغا خان پراپرٹیز (جانیشی اور ٹرانسفر) ایکٹ 2025ء کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے جس کے تحت پرنس کریم آغا خان چہارم کے نام پر گلگت بلتستان میں موجود جائیداد آغا خان پنچم کے نام منتقل ہو گی۔ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد آغا خان چہارم کی گلگت بلتستان میں موجود جائیداد ان کے جانشین آغا خان پنجم کے سپرد کی جائے گی۔ تمام ممبران نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا جس پر سپیکر نے بل کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔