سفر کے دوران متلی، چکر اور پسینہ؟ ماہرین صحت نے وجوہات اور حل بتا دیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:سفر کے دوران اگر آپ کو متلی محسوس ہوتی ہے، چکر آتے ہیں، ٹھنڈا پسینہ نکلتا ہے یا سانس لینے میں دقت ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ آپ موشن سکنس (Motion Sickness) کا شکار ہوں۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ماہرین صحت کاکہنا ہےکہ یہ ایک عام مگر تکلیف دہ کیفیت ہے، جو زمین، سمندر، فضا یا حتیٰ کہ خلائی سفر کے دوران بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
موشن سکنس کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق موشن سکنس اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کے توازن کو کنٹرول کرنے والے اندرونی کان کے حصے، خاص طور پر سیمی سرکولر کینالز، غیر معمولی حرکت کے باعث زیادہ متحرک ہو جائیں، اس کیفیت کی ایک اور اہم وجہ دماغ کو موصول ہونے والی متضاد معلومات ہوتی ہے۔
مثال کے طور پرجب کوئی شخص کشتی میں بیٹھا ہوتا ہے جو مسلسل ہچکولے کھا رہی ہوتی ہے اور وہ کسی غیر متحرک چیز (جیسے دیوار یا کتاب) پر نظریں جمائے رکھتا ہے تو دماغ کو آنکھوں اور اندرونی کان سے متضاد پیغامات موصول ہوتے ہیں، یہی تضاد موشن سکنس کا سبب بنتا ہے۔
ایسا تجربہ ویڈیو گیم کھیلنے یا کیمرے سے بنی ہوئی تیز حرکت والی فلم دیکھنے سے بھی ہو سکتا ہے، جہاں شخص خود ساکن ہوتا ہے مگر دماغ کو تیز حرکت کی جھوٹی اطلاع ملتی ہے۔
موشن سکنس کی عام علامات ہیں ، جن میں متلی اور قے کی کیفیت پیدا ہونا، چکر آنا ،ٹھنڈا پسینہ آنا، سانس لینے میں تیزی یا دقت (Hyperventilation) وغیرہ جیسی چیزیں ہوتیں ہیں۔
ڈاکٹرز موشن سکنس کی تشخیص عام طور پر علامات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں جن میں یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں، جیسے گاڑی یا کشتی میں سفر۔
طبی ماہرین کے مطابق اس کیفیت سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں
سر اور آنکھوں کو ممکنہ حد تک ساکت رکھیں،سفر کے دوران کھڑکی کھول کر تازہ ہوا لینے کی کوشش کریں، سفر سے قبل تمباکو نوشی، شراب نوشی یا بھاری کھانا کھانے سے گریز کریں، سفر کے دوران کتاب پڑھنے یا اسکرین پر دیکھنے سے اجتناب کریں،ادویات مثلاً اسکوپولامین پیچ یا ڈائی میہن ہائیڈری نیٹ ٹیبلٹ سفر سے قبل استعمال کی جا سکتی ہیں (طبی مشورے سے)۔
اگر موشن سکنس کی علامات ظاہر ہوں تو ہلکی غذا جیسے سوڈا کریکر یا ادرک والی مشروب جیسے جنجرایلے سے متلی میں کچھ افاقہ ہو سکتا ہے، اگر قے شروع ہو جائے تو اونڈانسیٹرون یا گرینیسیٹرون جیسی ادویات کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو قے کو روکتی ہیں۔
کس کو ہو سکتا ہے؟
موشن سکنس بچوں، خواتین اور ان افراد میں زیادہ عام ہے جو عمومی طور پر حساس مزاج رکھتے ہیں۔ یہ صرف زمینی یا سمندری سفر تک محدود نہیں بلکہ خلائی مسافروں، ویڈیو گیم کھلاڑیوں یا مخصوص فلمیں دیکھنے والے افراد کو بھی لاحق ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موشن سکنس کی سفر کے دوران ہو سکتا ہے ہوتی ہے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر