data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی درخواستیں خارج کیے جانے اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہےکہ  پارٹی نے فیصلے کو “مایوس کن”، “ناانصافی” اور “آئین کی غلط تشریح” قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف عوامی اور سیاسی سطح پر احتجاج کرے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی  بیرسٹر گوہر نے کہاکہ  قاضی فائز عیسیٰ کا سایہ سپریم کورٹ پر موجود ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی ہے، یہ ہمارے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے خلاف فیصلے دینے کا رجحان اب بھی عدالتی نظام میں موجود ہے، ایسا لگتا ہے جیسے قاضی فائز عیسیٰ کا سایہ اب بھی سپریم کورٹ میں موجود ہے، مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کا آئینی حق تھیں، لیکن عدالت نے آئین کی غلط تشریح کی۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہاکہ  یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف تین نشستیں جیتنے والی جماعت کو گیارہ مخصوص نشستیں دی گئیں، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے،ایک دن یہ ترمیم ختم ہوگی اور مستقبل میں بننے والی سپریم کورٹ ضرور اعتراف کرے گی کہ آج کا فیصلہ انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ نظرثانی درخواست مسترد ہونے کے بعد اب کوئی قانونی راستہ باقی نہیں بچا، اس لیے پارٹی سیاسی اور عوامی سطح پر احتجاج کرے گی، یہ فیصلہ آئینی تاریخ کا سیاہ دن ہے،یہ وہی سپریم کورٹ ہے جس نے ماضی میں پی ٹی آئی کا مخصوص نشستوں پر آئینی استحقاق تسلیم کیا تھا۔ اب اسی استحقاق کو مسترد کر کے مسترد شدہ جماعتوں کو مالِ غنیمت کی طرح یہ نشستیں بانٹی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر دلیل دی، ہر آئینی نکتہ اٹھایا، مگر آج ایک بار پھر ہمارے آئینی حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، یہ فیصلہ صرف پی ٹی آئی کے خلاف نہیں بلکہ عوامی نمائندگی، ووٹ کے احترام اور انصاف کے نظام کے خلاف ہے،آج انصاف کی روح کو کچلا گیا، عوام کے ووٹ، ان کے اعتماد اور نمائندگی کو روند ڈالا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز مخصوص نشستوں سے متعلق دائر نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ برقرار رکھا جس میں تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے کا حکم کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں نہیں مل سکیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مخصوص نشستیں سپریم کورٹ پی ٹی آئی کے خلاف

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ