UrduPoint:
2026-06-03@06:53:55 GMT

الحمدللّٰہ دو تہائی!

اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT

الحمدللّٰہ دو تہائی!

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 جون2025ء) مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر ن لیگ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ " الحمدللّٰہ دو تہائی!"۔ جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مخصوص نشستوں بارے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ جاری بیان میں وزیراعظم نے قانونی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی انتھک محنت پر پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے سے آئین و قانون کی بالادستی قائم ہوئی اور قانون کی درست تشریح ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ آئے اور حکومت کے ساتھ مل کر ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کے فیصلے پر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہمارا وطن، جسے کبھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا تھا، آج مکمل طور پر بے آئین، بے انصاف اور ریاستی استبداد کا نمونہ بن چکا ہے،آج ایک بار پھر عدالتی بینچ کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کے آئینی حق پر ڈاکہ ڈال دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان تحریک انصاف کا ردعمل میں کہنا تھا کہ ہم وہی پاکستان تحریک انصاف ہیں جس کا ماضی میں اسی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت مخصوص نشستوں کا آئینی استحقاق تسلیم کیا گیا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب عدالت نے آئین کی روشنی میں فیصلہ دیا، اور سچائی و انصاف عدالت کے کمرے سے جھلکی۔مگر آج، اسی عدالت سے اس فیصلے کا انہدام کر دیا گیا۔آج ایک ایسا فیصلہ آیا ہے جس نے نہ صرف انصاف کی روح کو کچلا ہے، بلکہ عوام کے ووٹ، نمائندگی اور اعتماد کو بھی روند ڈالا ہے۔

یہ نظرثانی کیس مہینوں عدالتوں میں چلتا رہا، اور تحریک انصاف نے ہر قانونی دروازہ کھٹکھٹایا، ہر دلیل پیش کی، ہر آئینی نکتہ اٹھایا۔لیکن ثابت ہوا کہ یہ عدالتیں تحریک انصاف کے لیے نہیں، صرف اشرافیہ کی سہولت کے لیے بنی ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ آج جس دیدہ دلیری سے تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کو چھینا گیا اور "مالِ غنیمت" کی طرح ان جماعتوں میں بانٹا گیا جنہیں عوام نے مسترد کیا وہ جمہوریت اور ووٹ کے حق کا قتل ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے۔تحریک انصاف کو کچلنے کی ریاستی پالیسی کا یہ ایک اور سنگین باب ہے۔پہلے الیکشن چوری کیے گئے، بلے کا نشان چھینا گیا، کارکنوں کو اغوا کیا گیا، کاغذات داخل کرانے سے پہلے تائید و تجویز کنندگان کو لاپتہ کیا گیا، میڈیا بلیک آؤٹ کیا گیا، اور عمران خان کو دو سال سے قید میں رکھا ہوا ہے۔

اب عوامی مینڈیٹ کو صرف اس لیے رد کیا گیا کہ یہ مینڈیٹ عمران خان کے نام پر تھا۔ آج ہم کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ یہ ریاست اب عوامی، آئینی یا جمہوری نہیں رہی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں سچ بولنا جرم ہے، حق مانگنا بغاوت ہے اور ووٹ دینا ناقابلِ معافی گناہ بن چکا ہے، اگر وہ ووٹ عمران خان کو دیا جائے۔تحریک انصاف کے ووٹرز، کارکنان اور حامیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہیں بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ہر دروازہ بند کر دیا گیا ہے سوائے جیل اور قبرستان کے۔لیکن ہماری ایک امید باقی ہے، اور وہ ہے عمران احمد خان نیازی! یہ ملک اگر کسی ایک شخص کے کردار، قربانی، سچائی اور عوامی طاقت سے دوبارہ آئین، انصاف اور جمہوریت کی طرف پلٹ سکتا ہے، تو وہ صرف اور صرف عمران خان ہیں۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پر جبر کی انتہا کی گئی ہے، مگر سچ بولنے کا حوصلہ چھینا نہیں جا سکا۔

ہم پر ہر دروازہ بند کیا گیا، مگر ہمارے دل اور زبان پر تالے نہیں لگائے جا سکتے۔ ہمیں زنجیروں میں ضرور جکڑا گیا ہے لیکن ہم اس فسطائیت والی زنجیر کی چابی بنا کر رہیں گے۔ ہم زخمی ضرور ہیں، لیکن عمران خان کے نظریئے کی مرہم ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم عدالتوں سے ناامید ہو چکے ہیں، لیکن عوام سے نہیں۔اور ہم جانتے ہیں کہ آخری فتح انشائ اللہ حق، آئین، اور عمران خان کی ہو گی۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مخصوص نشستوں تحریک انصاف کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کیا گیا گیا ہے

پڑھیں:

مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ

بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔

بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے  ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا  دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔

نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا  ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔

ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ  خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے