مسلح افواج کی تنخواہوں، الاؤنسز و دیگر واجبات کیلئے 15 ارب روپے سے زائد منظور
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جون 2025ء ) مسلح افواج کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر واجبات کیلئے 15 ارب روپے سے زائد کی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی۔ میڈئا رپورٹس کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے مسلح افواج کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر واجبات کے لیے وزارتِ دفاع کی 15 ارب 83 کروڑ 90 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ہے، اس حوالے سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں معیشت، توانائی اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
بتایا گیا ہے کہ ای سی سی کے اجلاس میں مسلح افواج کی تنخواہوں، الاؤنسز اور دیگر واجبات کے لیے وزارتِ دفاع کی 15 ارب 83 کروڑ 90 لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی، ای سی سی سے منظور کی جانے والی گرانٹ حالیہ پاکستان اور بھارت جنگ کے شہداء کے لیے وزیراعظم پیکج کے تحت واجبات ادائیگی کے لیے جاری کی جائے گی۔(جاری ہے)
معلوم ہوا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی کی درآمد کی منظوری دے دی، ای سی سی کی جانب سے چھوٹے کسانوں اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے رسک کور سکیم شروع کرنے کی تجویز منظور کرلی گئی ہے اس کا باضابطہ آغاز 14 اگست 2025ء سے ہونے کا امکان ہے۔
علاوہ ازیں پاکستان کی وفاقی حکومت نے بجٹ 26-2025 کا اعلان کرتے ہوئے دفاعی بجٹ میں 20.2 فیصد کا بڑا اضافہ تجویز کیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے دفاع کا بجٹ 428 ارب روپے کے اضافے کے بعد 2550 ارب روپے ہو جائے گا، دفاعی اخراجات کے ضمن میں رکھی گئی یہ رقم پاکستان کے جی ڈی پی کا 1.97 فیصد جبکہ یہ رقم مجموعی بجٹ کا 14.5 فیصد بنتی ہے، 2550 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے علاوہ لگ بھگ 1055 ارب روپے ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن کی مد میں بھی رکھے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دیگر واجبات ارب روپے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔