وزیر اعظم نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
وزیر اعظم نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 28 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی پیشکش کر دی۔رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چئیرمین پی ٹی آئی کو بیٹھ کر بات کرنے کی پیشکش کر دی۔شہباز شریف نے چیئرمین پی ٹی آئی کہا کہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں، مذاکرات ہی تمام چیزوں کا حل ہے، پہلے بھی آپ کو کہا ہے کہ بیٹھ کر بات کر لیں، بیرسٹر گوہر نے مکالمے کے جواب میں انشااللہ کہا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش کر رکھی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف اور بیرسٹر گوہر کے درمیان مکالمہ مخصوص نشستوں کے فیصلے سے قبل ہوا، قومی اسمبلی میں وزیراعظم شہباز شریف اٹھ کر بیرسٹر گوہر سے مصافحہ کرنے بھی آئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسانحہ سوات پر ڈی سی کے بجائے وزیر اعلی گنڈا پور کو معطل کیا جائے: عطا تارڑ سانحہ سوات پر ڈی سی کے بجائے وزیر اعلی گنڈا پور کو معطل کیا جائے: عطا تارڑ شمالی وزیرستان میں خود کش دھماکا، 8 سیکیورٹی اہلکار شہید پاکستان عالمی سطح پر خودمختار ڈیفالٹ رسک میں بہتری لانے والا سرفہرست ملک بن گیا لوگ پنجاب سے مرنے نہیں، سیر کے لیے گئے،کے پی حکومت تماشائی ہے:عظمی بخاری سپریم کورٹ کے فیصلے سے دکھ اور مایوسی ہوئی، ہمارا مینڈیٹ چوروں کو دے دیا گیا، بیرسٹر گوہر پی او آر کارڈ کے حامل افغان مہاجرین کے قیام میں 3 سے 6 ماہ کی توسیع پر غورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کو مذاکرات کی پی ٹی آئی کو کی پیشکش
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔