فرانسیسی حکومت نے ملک بھر میں بشتر مقامات پرسگریٹ نوشی پرپابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فرانسیسی حکومت نے اتوار سے ملک بھر میں ساحلوں، پارکوں، گارڈنز، بس شیلٹرز، لائبریریوں، سوئمنگ پولز اور اسکولوں کے باہر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد خاص طور پر بچوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
یہ حکم نامہ ہفتے کے روز سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 135 یورو (تقریباً 45 ہزار پاکستانی روپے) جرمانہ عائد ہوگا۔ فرانسیسی وزیر صحت کیتھرین واؤترین نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “جہاں بچے موجود ہوں، وہاں خالص ہوا میں سانس لینا ان کا حق ہے۔”
دلچسپ بات یہ ہے کہ کیفے ٹیرس یعنی کھلی فضا میں موجود کیفے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے، جبکہ الیکٹرانک سگریٹ پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
فرانس میں ہر سال تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں کے باعث تقریباً 75 ہزار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تازہ سروے کے مطابق 62 فیصد فرانسیسی شہری عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کے حامی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی حمایت سے مطابقت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔