WE News:
2026-06-03@03:35:50 GMT

سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو 5 سال قید کی سزا

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو 5 سال قید کی سزا

پیرس کی عدالت نے سابق فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کو سنہ 2007 کے صدارتی انتخاب کے لیے لیبیا سے فنڈز حاصل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنا دی۔

یہ سزا کئی ماہرین کی توقع سے سخت اور جدید فرانسیسی سیاسی تاریخ میں پہلی بار اس نوعیت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وہ عالمی رہنما جن کو کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات پر سزا کا سامنا کرنا پڑا

سرکوزی، جو سال 2007 سے سال 2012 تک صدر رہے، نے عدالت کے باہر کہا کہ یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام پر اعتماد کے لیے سنگین ہے۔ انہوں نے اپنی بے گناہی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے جیل میں جانا پڑے تو سر اٹھا کر جاؤں گا۔

عدالت نے انہیں بدعنوانی اور غیر قانونی انتخابی مالی امداد سے متعلقہ تمام دیگر الزامات سے بری کر دیا ہے۔

سزا فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور عدالت نے کہا ہے کہ سرکوزی کو قید میں جانے سے پہلے اپنے معاملات ترتیب دینے کے لیے چند ہفتے دیے جائیں گے۔

سرکوزی پر الزام تھا کہ انہوں نے سنہ 2005 میں جب وہ وزیر داخلہ تھے لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے ساتھ انتخابی مہم کے لیے مالی امداد کے تبادلے کا معاہدہ کیا تھا۔

تاہم عدالت نے اس معاہدے کے ثبوت نہ ملنے اور فنڈز کی منتقلی کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکوزی نے اپنے قریبی معاونین کو لیبیا سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کرنے کی اجازت دی جس کی بنا پر انہیں مجرمانہ سازش میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔

مزید پڑھیے: فرانسیسی حکومت کا انہدام: وزیرِاعظم فرانسوا بایرو عدم اعتماد کے بعد عہدے سے فارغ

70 سالہ سرکوزی جنوری سے اس مقدمے میں شامل ہیں اور اسے سیاسی طور پر متاثرہ کیس قرار دیتے رہے ہیں۔

یہ اس سال دوسرا موقع ہے جب کسی اہم سیاسی شخصیت کو فوری سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے پہلے مارچ میں دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین کو یورپی یونین کے فنڈز کے غلط استعمال پر 5 سال کے لیے انتخاب لڑنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

سرکوزی کی قانونی مشکلات کے باوجود وہ فرانسیسی سیاست میں ایک مؤثر شخصیت ہیں۔ انہیں جون میں فرانسیسی سب سے اعلیٰ اعزاز لیجن آف آنر سے بھی محروم کیا جا چکا ہے۔

مزید پڑھیے: فرانسیسی صدر اور خاتون اول کے درمیان تناؤ؟ برطانیہ میں ہاتھ نہ تھامنے کے واقعے پر نئی قیاس آرائیاں

گزشتہ سال فرانس کی اعلیٰ عدالت نے انہیں بدعنوانی کے جرم میں سزا سنائی تھی اور ایک سال کے لیے الیکٹرانک ٹیگ پہننے کا حکم دیا تھا جو ایک سابق صدر کے لیے پہلا واقعہ تھا۔ یہ ٹیگ اب ہٹا دیا گیا ہے۔

اسی سال ایک اپیل عدالت نے سنہ 2012 کے انتخابی مالیاتی اسکینڈل میں بھی ان کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ اس کیس کا حتمی فیصلہ اگلے ماہ متوقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فرانس کے سابق صدر کو سزا فرانسیسی سابق صدر نکولس سرکوزی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فرانس کے سابق صدر کو سزا نکولس سرکوزی عدالت نے کے لیے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی