قوم شہدائے وطن کی عظیم قربانیوں کی ہمیشہ سے مقروض ہے اور رہے گی: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نےبزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسزکے 13 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہادر سپوتوں نے شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔ شہداء قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔فتنہ الہندوستان کے 14 دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے والے سیکیورٹی فورسز کے جری جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
مخصوص نشستوں پرسپریم کورٹ کا فیصلہ، الیکشن کمیشن کا ردعمل بھی آگیا
محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوان قوم کا فخر ہیں،شہداء کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور قوم انمٹ قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ قوم شہدائے وطن کی عظیم قربانیوں کی ہمیشہ سے مقروض ہے اور مقروض رہے گی۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نےشہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ شہدائے وطن کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔