دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر 48 گھنٹوں سے بجلی غائب، کراچی کے کئی علاقے پانی سے محروم
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی 48 گھنٹوں سے زائد وقت سے معطل ہونے کی وجہ سے شہر میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ترجمان کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کا بریک ڈاؤن 26 جون کی رات 10 بجے پیش آیا جس کے باعث دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے کے 3 پمپ ہاؤس کے 2 پمپ بند ہوگئے۔
پمپنگ بند ہونے کی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہو رہی ہے جبکہ اب قلت کا خدشہ بھی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ بریک ڈاؤن کو 48 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے تاہم کے الیکٹرک کی جانب سے فالٹ تاحال درست نہیں کیا جا سکا جس کے باعث شہر کو پانی کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ترجمان کے مطابق پمپ بند ہونے کے باعث ناظم آباد، نیو کراچی، لانڈھی، کورنگی اور دیگر علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر کو مجموعی طور پر 185 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اعلیٰ حکام کے الیکٹرک انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں صورتحال کی سنگینی سے مکمل طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔
ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور غیر ضروری استعمال سے اجتناب کریں تاکہ موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا ہے کہ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن میں بجلی کی فراہمی میں تعطل زیر زمین کیبل فالٹ کے باعث پیش آیا، علاقے میں بارش کا پانی کھڑا ہونے کے باعث فالٹ کی درستگی میں دشواری کا سامنا ہے۔
ترجمان کے الیکٹرک نے کہا کہ پانی کی نکاسی ہوتے ہیں فالٹ کو دور کیا جائے گا جس کے بعد پانی کی سپلائی بحال ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے-الیکٹرک کی ٹیمیں علاقے میں موجود اور واٹر بورڈ کی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے الیکٹرک کی فراہمی پانی کی کے باعث
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔