data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی (اے پی پی) دہلی یونیورسٹی کے پینل کی طرف پوسٹ گریجویٹ پولیٹیکل سائنس کے نصاب سے اسلام،
پاکستان اور چین کے کورسز کو خارج کر دیا گیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یونیورسٹی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیمی معاملات نے اسلام اور بین الاقوامی تعلقات، پاکستان اور دنیا، عصری دنیا میں چین کا کردار اور پاکستان میں ریاست اور معاشرہ کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے ۔ یہ ہدایت وائس چانسلر یوگیش سنگھ کی طرف پاکستان کی تعریف والے مواد کو ہٹانے کی سفارش کے بعد کی گئی ہے ۔یونیورسٹی کے فیکلٹی ارکان نے اس ہدایت پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض ایک سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کورسز کو ہٹانے سے جغرافیائی فہم کو نقصان پہنچے گا۔ ڈیموکریٹک ٹیچرز فرنٹ کی سکریٹری ابھا دیو کہتی ہیں کہ یونیورسٹیوں کی تعلیمی خود مختاری ختم ہو رہی ہے، عقائد کے نظام پر مبنی کورسز کو ختم کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔اکیڈمک کونسل کے ایک منتخب رکن متھوراج دھوسیا نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اختیار کے دائرہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمیٹی مشورہ دے سکتی ہے،یکطرفہ طور پر حکم نہیں دے سکتی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی اداروں میں اسلامو فوبیا اور پاکستان مخالف جذبات کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد دہلی یونیورسٹی نے مختلف انڈرگریجویٹ کورسز، خاص طور پر تاریخ اور سماجیات کے نصاب میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔
دہلی یونیورسٹی

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت