پاکستانی فلم نایاب” ایس سی او فلم فیسٹیول میں مقابلے کیلئے منتخب
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کی اداکارہ یمنیٰ زیدی اور اداکار اوسامہ خان کی فلم "نایاب” کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) فلم فیسٹیول 2025 میں باقاعدہ طور پر مقابلے کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔
یہ فیسٹیول شنگھائی تعاون تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کا حصہ ہے، جو مختلف ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں اور فلمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔
فلم "نایاب” کو اس اعزاز کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر نمائندگی کا موقع ملا ہے، جو پاکستانی سینما کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس انتخاب کو پاکستانی فلم انڈسٹری کے معیار اور تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے۔
A post common by Irfanistan ???? | calm creator (@irfanistan)
یاد رہے کہ SCO فلم فیسٹیول میں رکن ممالک کی فلموں کو پیش کیا جاتا ہے، جہاں مختلف ثقافتوں کو اجاگر کرنے والی فلموں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی فلمیں بین الاقوامی ناظرین تک رسائی حاصل کرتی ہیں اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بناتی ہیں۔
یمنیٰ زیدی کی یہ فلم اس سے قبل بھی کئی ایوارڈز اپنے نام کرچکی ہے۔ فلم نایاب کو فرانس میں ہونے والے ’ورلڈ کانز فلم فیسٹیول‘ میں بھی مئی 2024 میں دو ایوارڈز سے نوازا گیا تھا۔
اس فلم کی کہانی کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک نایاب نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہےے جس کا مرکزی کردار یمنیٰ زیدی نے ادا کیا ہے جو کہ بچپن سے ہی کرکٹر بننا چاہتی تھیں لیکن خاندان اور سماجی مسائل کی وجہ سے اسے مشکلات درپیش آتی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فلم فیسٹیول
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک