بلوچستان حکومت کا ایرانی پیٹرول و ڈیزل کی اسمگلنگ پر پابندی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک : بلوچستان حکومت نے سکیورٹی اور معاشی خطرات کے پیش نظر غیر قانونی ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل و فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق ایران سے بلوچستان کے راستے سالانہ 2 ارب 80 کروڑ لیٹر پیٹرول اور ڈیزل اسمگل کیا جاتا ہے جس سے قومی خزانے کو تقریباً 227 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ سکیورٹی اداروں کی مشترکہ رپورٹ کے بعد حکومت نے ایرانی تیل کی غیر قانونی ترسیل روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے ہیں اور ایران سے ملحقہ 900 کلومیٹر طویل سرحد پر نگرانی سخت کر دی ہے،اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے شہر بھر میں 600 غیر قانونی ایرانی پیٹرول پمپس سیل کر دیے ہیں،کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات نے کارروائی کی تصدیق کی ہے۔
انڈیا کی فلم لاہور میں چل گئی کیونکہ یہ فلم پنجابی زبان کی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے حکومتی فیصلے پر کڑی تنقید کی اور اسے صوبے کے معاشی حالات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
تاجر برادری نے بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پابندی سے صوبے میں بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چوتھے روز بھی اضافہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 جولائی کیلیے اضافہ کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔