افغان مہاجرین کے پی او آر کارڈز کی مدت میں توسیع کی تجویز کابینہ کو بھیجنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
پروف آف ریزیڈنس ( پی او آر ) کارڈ کے حامل افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی مدت میں 6 ماہ کی توسیع کی تجویز کابینہ کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
پروف آف ریزیڈنس کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کی وطن واپسی سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں وزارت سیفران، وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور سیکیورٹی اداروں کے حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں پی او آر کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام میں تین سے چھ ماہ کی توسیع پر غور کیا گیا۔
چھ ماہ کی توسیع کی تجویز کابینہ کو بھیجی جائے گی۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ایسے کئی افغان شہری بھی ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور ان کے کاروبار اور جائیدادیں یہاں موجود ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ان مہاجرین کو پراپرٹی فروخت کرنے اور کاروبار سمیٹنے کے لیے مزید وقت درکار ہے اسی لیے قیام میں توسیع کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: توسیع کی تجویز افغان مہاجرین
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔