Jasarat News:
2026-06-03@03:12:52 GMT

پنشن میں اضافے کا نوٹیفکیشن اور میچنگ گرانٹ کی بحالی؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ای او بی آئی ایکٹ 1976 کے تحت، وفاقی حکومت کو اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (EOBI) کو سالانہ بنیادوں پر میچنگ گرانٹس فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ (EOBI کے بیمہ شدہ افراد سے جمع کردہ سالانہ شراکت کی رقم کے برابر مماثل گرانٹس)۔ بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے 1995 سے غیر قانونی طور پر EOBI کی میچنگ گرانٹ کو معطل کر رکھا ہے۔
یہ میچنگ گرانٹ پارلیمنٹ ایکٹ 1976 کے مطابق وفاقی حکومت EOBI کو دینے کی پابند ہے لیکن وفاقی حکومت نے یہ مالی سر پرستی 1995 سے معطل کررکھی ہے جو 5لاکھ سے زائد ای او بی آئی پنشنرز کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر یہ گرانٹ بحال ہو جائے تو ہمارا سرمایہ اور اثاثے بھی ڈبل ہوجائیں گے اس طرح EOBI مالی طور پر اتنا مستحکم ہوجائے گا کہ ہر سال مہنگائی کے حساب پنشن میں اضافہ ممکن ہوجائے گا۔
ہم 5 لاکھ معماروطن ای او بی آئی پنشنرز کی شہباز شریف اور بلاول بھٹو، وزیرصدیق سالک سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ یہ میچنگ گرانٹ بحال کراکر شہید ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی اس خواہش کو پورا کریں کہ میرے محنت کشوں کا بڑھاپا سکون سے گزرے۔
یہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی نہ گزاریں
ظلم کی حد ہوتی ہے
ای او بی آئی بورڈ آف ٹرسٹیز سے منظوری کے بعد جس کی جمع پونجی سے یہ پاکستان کا امیر ترین ادارہ بنا ہے ان کے 15 فیصد کی اپرویل تو پارلیمنٹ سے اور ادارے ملازمین پنشن اور تنخواہ میں اضافہ اور جو وفاق کے اندر ہیں ان کو بغیر پارلیمنٹ کی منظوری سے ادا کردیا جاتا ہے۔ یہ کیسا گلا سڑہ نظام ہے ہم یہ ظلم کے ضابطے نہیں مانتے، حکومت وقت کو چاہیے جتنی جلد ہوسکے نوٹیفکیشن نکال کر ہمیں معاشی قتل سے بچایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: او بی ا ئی وفاقی حکومت میچنگ گرانٹ

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا